خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 379
379 بھی مل کر یہ کوشش کریں کہ جماعت میں کوئی وجود بھی ایسا نہ رہ جائے جو قرآن مجید ناظرہ نہ جانتا ہو اور پھر دوسرا قدم یہ ہو کہ ہر ایک قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ جانتا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی غرض ہی قرآن کریم کی تعلیم کو پھر سے دنیا میں پھیلانا تھا۔قرآن مجید کے خزائن آپ نے دنیا کو پیش کئے۔معارف قرآن کا دریا بہایا۔قرآن کے مطابق اپنے اصحاب کی زندگیاں بدل کے رکھ دیں۔جو آپ کی محبت میں رہا۔اس نے اپنے عمل سے اصحاب محمد ﷺ کی زندگیوں کا نمونہ عملاً دنیا کے سامنے اپنے نمونہ سے پیش کر دیا۔ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں قرآن مجید اور حدیث کا درس جاری رکھا۔اور احمدی وہ درس سن کر قرآن مجید کی شمع سے اپنے قلوب منور کرتے رہے اور دنیا میں اس کی روشنی پھیلاتے رہے۔آپ کے بعد وہ دور آیا جو تاریخ احمدیت کا ایک زریں باب ہے۔حضرت مصلح موعود کواللہ تعالیٰ نے ایک لمبا دور خلافت عطا فرمایا۔آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ کلام الہی کا مرتبہ اس کے ذریعہ بالا ہوگا۔آپ کی ساری زندگی کا محور یہی رہا کہ مرد بھی اور عورتیں بھی قرآن مجید سیکھیں اور سکھائیں۔آپ نے بارہا عورتوں میں تقریریں فرماتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ تم پر علم دین سیکھنے کی بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آپ نے عورتوں میں بنفس نفیس درس قرآن دیا۔ایک دفعہ آپ نے جلسہ سالانہ کے موقع پر قرآن مجید کا ترجمہ جاننے والیوں کو کھڑا ہونے کا ارشاد فرمایا۔ان کی تعداد دیکھ کر آپ نے فرمایا کہ آج کا دن میرے لئے خوشی کا دن ہے مگر حقیقی خوشی کا دن وہ دن ہو گا جب ہر احمدی عورت قرآن کا ترجمہ جانتی ہوگی۔آپ کے بعد خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے متواتر قرآن کریم ناظرہ اور ترجمہ سیکھنے کی طرف جماعت کو توجہ دلائی ہے آپ کے ارشاد کے ماتحت لجنہ مرکزیہ نے تمام لجنات کو فارم چھپوا کر بھجوائے۔لیکن اس وقت تک کل 154 لجنات اور 143 ناصرات کی طرف سے فارم پر ہو کر آئے ہیں جن میں سے صرف اور صرف 18 لجنات ایسی ہیں جن میں سو فیصدی مستورات ناظرہ جانتی ہیں۔حالانکہ ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہئے که سو فیصدی مستورات ترجمہ جانتی ہوں۔آئندہ سال کے پروگرام میں ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ سو فیصدی ناظرہ کی تعداد کو پہنچا دیں اور 50 فیصدی ترجمہ کی۔حضرت مصلح موعود کا یہ الہام کہ اگر پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی اس بات کی طرف نشاندہی کرتا ہے کہ ہر کام کا کم از کم معیار پچاس فیصدی ہونا چاہئے۔ہماری عزت لجنہ کی ترقی جماعت کی سر بلندی اسلام کا غلبہ۔قرآن کریم کا پھر سے رواج اور اس پر عمل درآمد کرنا اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جو