خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 378 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 378

378 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو آنحضرت ﷺ کی صداقت کو اللہ تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کیا جائے۔پس میری بہنو اور مصلح موعود کی وفا کیشو ! جو چاہتی ہیں کہ پیشگوئی مصلح موعود کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و رحمت کے نشان کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔جو چاہتی ہیں کہ اسلام کی صداقت کو دلائل کے ساتھ ساری دنیا سے منوایا جائے جو چاہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی حکومت کو ساری دنیا میں قائم کیا جائے جو چاہتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی کا جو ا ساری دنیا پہن لے۔جو چاہتی ہیں کہ خلافت کا انعام ہم میں ہمیشہ قائم رہے۔جو چاہتی ہیں کہ مصلح موعود کا نام اور آپ کے جاری کردہ کام ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں اس کے لئے قربانی کا سب سے بڑا راستہ یہی ہے کہ وہ فضل عمر فاؤنڈیشن میں دل کھول کر حصہ لیں۔اپنی محبت اپنی عقیدت اور اپنی وفا کا مظاہرہ اس سکیم میں عملی طور پر شامل ہو کر کریں۔دسمبر 64ء میں جب حضرت مصلح موعود کی خلافت پر پچاس سال گزر چکے تھے میں نے اپنی بہنوں کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ ہم اس خوشی میں اللہ تعالیٰ کے حضور ایک نذرانہ پیش کریں ایسا نذرانہ جو ہماری اسلام سے محبت کا زندہ ثبوت ہو۔اس خوشی میں ہم یورپ میں ایک اور مسجد تعمیر کروائیں۔بہنوں نے میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس عدیم المثال مالی قربانی کا مظاہرہ کیا کہ اس کی مثال کہیں اور نہیں نظر آئی۔میں نے دولاکھ روپے کی تحریک کی تھی۔لیکن بعد میں صحیح اندازہ لگوانے اور بنیا درکھی جانے پر اندازہ پانچ لاکھ تک پہنچ گیا۔اللہ تعالیٰ کا کتنا بھاری فضل اور احسان ہے کہ 65ء کے جلسہ سالانہ پر دولاکھ کی رقم پوری ہوگئی تھی اور اب پونے دو سال گزرنے پر وعدہ جات 3,53,000 اور وصولی 3,50,000 ہے۔گو اندازہ ہمارے اندازے سے دگنے سے بھی زیادہ بڑھ چکا ہے۔لیکن بہر حال جو وعدہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور کر چکی ہیں اس کو مومنانہ شان کے ساتھ ہم نے پورا کرنا ہے۔میری بہنو! کوشش کریں کہ 67ء کے آخر تک آپ اپنے وعدہ سے سکبدوش ہو جا ئیں۔آپ نے اپنی قربانی اور اپنے عمل سے دنیا کو بتاتا ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی ذات سب سے پیاری ہوتی ہے۔اس کی راہ میں وہ کسی قربانی سے نہیں گھبراتے پھر یہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ ہم نے پورا کرنا ہے۔دوسری طرف حضرت مصلح موعود کی یاد گار قائم کرنی ہے۔تا اس مسجد کے ذریعہ جو اسلام کو غلبہ حاصل ہو۔دنیا اسلام قبول کرے۔اس کی خوشی حضرت مصلح موعود کی روح کو پہنچتی رہے۔دوسری تحریک جو تعلیم سے تعلق رکھتی ہے حضرت خلیفہ آہسیح الثالث ایدہ اللہ تعالی کی طرف سے جماعت کے سامنے رکھی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ساری جماعت کے مرد بھی اور عورتیں بھی لڑکے بھی اور لڑکیاں