خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 21 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 21

21 پیشگوئی کے مطابق 12 جنوری 1889ء کو وہ لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ظاہری صحت کمزور ہے۔کبھی آنکھیں دیکھنے آجاتی ہیں۔کبھی کوئی اور تکلیف ستانے لگتی ہے۔بظاہر حالات کوئی خاص امید نہیں کی جاسکتی کہ یہ بچہ زندہ بھی رہے گا۔لیکن خدا کا سایہ اس کے سر پر ہے۔بیماریاں آتی ہیں اور اپنا زور دکھا کر چلی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر بیماری سے شفا دیتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ عمر آجاتی ہے جس میں بچہ کی تعلیم کا انتظام کیا جاتا ہے۔چونکہ بچہ کی آنکھیں اکثر دکھتی رہتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہتے ہیں چلو صرف قرآن اور حدیث پڑھ لے اور پڑھ کر کیا کرتا ہے۔کسی دن پڑھنے جاتا ہے کسی دن نہیں۔کئی کئی نافعے پڑھائی میں ہو جاتے ہیں۔نہ استادوں ہی کی طرف سے اور نہ والدین کی طرف سے زور ڈالا جاتا ہے اور اسی حالت میں اس بچہ کی عمر 19 سال ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ اپنے پاس بلا لیتا ہے۔دشمن شور مچاتا ہے کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔اس لڑکے کی پیدائش سے اسلام کی ترقی کو وابستہ کیا گیا تھا۔اب مرزا صاحب کی وفات کے ساتھ جماعت بھی ختم ہو جائے گی اور چٹکیوں میں احمدیت کو مسل کر رکھ دیا جائے گا۔لیکن احمدیت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا تھا۔اللہ تعالیٰ اس جماعت کی باگ ڈور حضرت خلیفہ اول کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔جن فتنوں نے سر نکالا تھاوہ بھی وقتی طور پر دب جاتے ہیں۔لیکن ابھی چھ سال کا عرصہ ہی گزرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول بھی وفات پا جاتے ہیں اور جماعت کی اکثریت اسی پچیس سالہ نوجوان کو جماعت کا خلیفہ منتخب کر لیتی ہے۔جماعت دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔دشمن کہتا ہے کہ سارا کام جماعت کا مولوی نورالدین صاحب کیا کرتے تھے۔اب یہ جماعت دو دن کی مہمان ہے۔جماعت کا باغی طبقہ شور مچاتا ہے کہ ہم نے اس بچہ کی بیعت نہیں کرنی جماعت کے سرکردہ لوگ الگ ہو جاتے ہیں۔اور آپ کی معیت سے انکار کر دیتے ہیں۔مگر خدا کا وعدہ سچا تھا۔خدا کا سایہ آپ کے سر پر تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو صاحب شکوہ اور عظمت بتایا تھا آپ اس شدید فتنہ کے بھنور میں سے جو خلافت کے متعلق شروع ہو گیا تھا۔اپنی کشتی پار نکال کر لے جاتے ہیں نہ صرف یہی کہ وقتی طور پر جماعت اس فتنہ سے بیچ نکلتی ہے بلکہ اس کے بعد جماعت کا ہر قدم ترقی کی طرف جاتا ہے۔نئے مشن کھلتے ہیں۔بہت سے مبلغین تیار کر کے باہر ملکوں میں تبلیغ کے لئے بھجوائے جاتے ہیں۔انگلستان کی سرزمین میں اللہ کا نام بلند کرنے کے لئے بیت اللہ تعمیر ہوتی ہے۔جماعت کے چندے اور جماعت کا فنڈ روز بروز بڑھتا ہی جاتا ہے۔دشمن ہر طرح کے وار جماعت کے سر پر کرتا ہے لیکن جماعت کی کشتی کا یہ نوجوان ناخدا ہر نئے بھنور سے جس میں کشتی پڑتی ہے نکال کر لے جاتا ہے۔آپ کے متعلق یہ بھی پیشگوئی تھی کہ وہ اولوالعزم ہوگا۔کبھی غریبوں کی شکل میں کوئی