خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 20
20 پیشگوئی مصلح موعود پر ایک طائرانہ نظر ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ثبوتوں میں سے سب سے بڑا ثبوت آپ کی صداقت اور آپ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا پیشگوئی مصلح موعود ہے۔جو اپنے وقت پر جا کر نہایت آب و تاب اور شان و شوکت کے ساتھ پوری ہوئی۔1886ء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا۔میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے۔اور فتح و ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔اور اس قدرت اور رحمت اور قربت کے نشان کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ کس طرح پورا ہو گا وہ اس طرح که سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ایک زکی غلام تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت و نسل ہوگا۔۔اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکتوں سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔۔۔۔وغیرہ تذکرہ صفحہ 109-110 کوئی انسان خاص طور پر جس کی عمر بڑی ہو چکی ہو کبھی اپنے متعلق دعوی نہیں کر سکتا کہ میرے اولاد ہو گی بھی یا نہیں۔پھر اگر اولاد ہونے کے آثار ظاہر ہو بھی جائیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ اس حمل سے زندہ بچہ پیدا ہوگا یا درمیان میں حمل ضائع ہو جائے گا۔پھر بچہ پیدا ہو بھی جائے تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ زندہ بھی رہے گا۔یہ جوان بھی ہوگا اور بڑا ہو کر قابل بھی ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ اسلام کی صداقت کے نشان کے طور پر بتاتا ہے کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہوگا۔نو سال کی میعاد کے اندر ہو گا۔لمبی عمر پائے گا۔صاحب شکوہ اور عظمت ہوگا۔سخت ذہین و فہیم ہو گا۔خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔قو میں اس سے برکت پائیں گی۔