خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 22
22 فتنہ رونما ہوتا ہے اور کبھی امراء کی شکل میں۔مخالفتوں کی آندھیاں چلیں۔فتنوں کے سیلاب آئے اور ہر دفعہ دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ جماعت جس کو وہ چند روزہ مہمان سمجھتے تھے اس کی جڑیں زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوتی چلی گئیں اور اس کا درخت زیادہ سے زیادہ پھیلتا چلا گیا یہاں تک کہ ایک مضبوط تناور درخت بن گیا جس کی کوئی شاخ امریکہ کوئی لندن کوئی سپین کوئی جرمنی کوئی انڈونیشیا کوئی برما کوئی عراق اور عرب اور کوئی افریقہ میں جا پہنچی۔ادھر جماعت ترقی کے راستہ پر گامزن رہی یہاں تک کہ جماعت کو وہ عظیم الشان دھکا پہنچا جس سے نہ صرف دنیا بلکہ خود جماعت کے بعض کمزور طبیعت والے لوگوں کو خیال ہو گیا کہ اب جماعت کے لئے حقیقی خطرہ ہے اور یہ دھکا جماعت کی جڑیں ہلا دے گا مگر اللہ تعالیٰ جو سچے وعدوں والا ہے اور جس نے اپنے نبی کوفر مایا تھا کہ تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت ونسل سے ایک ایسا لڑکا دوں گا جس کے سر پر خدا کا سایہ ہوگا۔جو جلد جلد بڑھے گا اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ خدا نے جو وعدہ اپنے نبی سے کیا تھا وہ پورا نہ ہو۔اور اسلام کی صداقت پر یہ نشان ظاہر نہ ہو۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔یہ دھکا جو ہجرت کا دھکا تھا جماعت نے بری طرح محسوس کیا۔دیکھنے والوں نے یہی محسوس کیا کہ جماعت کی جڑیں ہل گئیں۔مگر نہیں ، جماعت کی جڑیں اور زیادہ گہری ہو گئیں۔بے شک جماعت کو اپنا مرکز عارضی طور پر چھوڑنا پڑا۔لیکن خدا نے بہت جلد ان کو ایک اور مرکز دے دیا جہاں وہ جمع ہو گئی۔سارے مشرقی پنجاب سے لوگ نکلے اور مختلف جگہ بکھر گئے کوئی ایک شہر۔ایک قصبہ اور ایک گاؤں کے لوگ بھی اکٹھے آباد نہ ہو سکے۔مشرقی پنجاب سے نکلتے وقت جو کچھ لوگوں کے ساتھ پیش آیا اور جس جس طرح لوگوں کی عزتیں لوٹی گئیں وہ اپنی جگہ تلخ داستان ہے مگر مصلح موعود کی قیادت میں جماعت امن کے ساتھ ، عزت کے ساتھ نکلی اور پھر منتشر نہیں ہوئی بلکہ ایک آب و گیاہ زمین کو جہاں پانی کی شکل بھی نہ دکھائی دیتی تھی اسی اولوالعزم کی قیادت میں از سر نو آباد ہو گئی۔نہ صرف یہ کہ آباد ہوگئی بلکہ تین چار سال کے قلیل عرصہ میں ان کے مکانات بھی بن گئے ، دفاتر بھی تعمیر ہو گئے سکول اور کالج بھی جاری ہو گئے اور ربوہ بزبان حال چیلنج کر رہا ہے کہ اولوالعزمی کی ایسی زندہ مثال کوئی اور ہو تو دکھا دو۔اللہ تعالیٰ کے موعودوں کے لئے مخالفتیں مقدر ہوتی ہیں۔چنانچہ اب کے مخالفت ایک نئے رنگ میں نمودار ہوئی جس کا نام ” تحریک ختم نبوت رکھا گیا۔مگر خدا نے جماعت کی ترقی اپنے موعود خلیفہ کے ساتھ مقدر کر رکھی تھی۔اس لئے گو مخالفتوں کے جھکڑ چلے اور شیطانی طاقتوں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ حملے کئے۔احمدیوں پر حملے کئے گئے ان کے گھر لوٹے گئے ان کو شہید کیا گیا مگر احمدیوں کے خون کا جہاں ایک