خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 19
619 سے دعا کرو۔میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 202 نیا ایڈیشن) مگر یہ یا درکھو کہ یہ دعا صرف زبانی بک بک کا نام نہیں ہے۔بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ دل خدا تعالیٰ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور دعا کرنے والے کی روح پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الو ہیت پر گرتی ہے اور اپنی کمزوریوں اور لغزشوں کے لئے قومی اور مقتدر خدا سے طاقت اور قوت اور مغفرت چاہتی ہے۔ملفوظات جلد چہارم صفحہ 203 نیا ایڈیشن کے تیسرا طریق جو قرآن مجید سے ثابت ہے صحبت و معیت صادقین ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبہ: 119) یعنی اے ایمان والو۔تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ جب حاصل ہو سکتا ہے کہ صادقین کے ساتھ معیت اختیار کرو۔صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔غرض یہ تین ذرائع ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حصول تقوی کے بیان فرمائے ہیں۔جن کے ذریعہ سے ایک انسان با خدا اور متقی انسان بن سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت جماعت کو :۔اپنی جماعت کی خیر خواہی کے لئے زیادہ ضروری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کی بابت نصیحت کی جاوے۔کیونکہ یہ بات عقلمند کے نزدیک ظاہر ہے۔کہ بجز تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ - (نحل: 129) ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلہ بیعت میں ہیں۔جس کا دعوی ماموریت کا ہے۔تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے۔ان تمام آفات سے نجات پاویں۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 7 نیا ایڈیشن کے یا درکھو کہ تمہاری فتح تقومی سے ہے ورنہ عرب تو نزے لیکچرار ، خطیب اور شاعر ہی تھے۔انہوں نے تقویٰ اختیار کیا۔خدا تعالیٰ نے اپنے فرشتے ان کی امداد کے لئے نازل کئے۔۔۔اس لئے اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا وَّالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ - (انحل: 129) ملفوظات جلد اول صفحہ 114) دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔تا ہم بھی خدا تعالیٰ کے مقرب اور محبوب بندے بن سکیں۔آمین اللهم آمین مصباح دسمبر 1950