خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 18 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 18

مساکین، مسافروں ، سوال کر نیوالوں اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے۔۔۴۔۔_A و۔نماز با جماعت پڑھے۔اگر ز کوۃ فرض ہو تو ادا کرے۔اگر کسی سے وعدہ کرے تو ہر قیمت پر وعدہ کو پورا کرے۔تنگی ، تکلیف اور جنگ کے وقت میں صبر دکھائے۔قولاً اور فعلاً راستباز ہو۔فرائض اور تنگی ہر دو حالتوں میں صدقہ و خیرات کرے۔اپنے غصہ کو ضبط کرے۔۱۰۔اگر کسی سے اس کا کوئی قصور ہو جائے تو درگزر کرے تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ) حصول تقوی کے ذرائع:- متقیوں کی صفات جان لینے کے بعد اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ تقویٰ کے حصول کے کیا کیا ذرائع ہیں انسان کس طرح متقی بن سکتا ہے۔اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک تقریر میں دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔”اصل زہد اور تقویٰ تو ہے ہی وہی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔۔۔۔۔۔حقیقی پاکیزگی اور حقیقی تقویٰ اور طہارت کے حصول کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی زمانہ شباب و جوانی میں انسان کوشش کرے۔جبکہ قومی میں قوت اور طاقت اور دل میں ایک اُمنگ اور جوش ہوتا ہے۔۔۔۔۔(اول) ضروری ہے کہ انسان دیدہ دانستہ اپنے آپ کو گناہ کے گڑھے میں نہ ڈالے۔ورنہ وہ ضرور ہلاک ہو گا۔اپنے آپ کو نیکی کی طرف لگائیں۔اور اپنے ہر ایک فعل اور حرکت وسکون میں نگاہ رکھے۔کہ وہ اس کے ذریعہ سے دوسروں کے لئے ایک ہدایت کا نمونہ قائم کرتا ہے۔یا کہ نہیں۔پس حقیقی تقویٰ اور طہارت حاصل کرنے کے واسطے اول یہ ضروری شرط ہے کہ جہاں تک بس چل سکے تدابیر بدیوں سے بچنے اور نیکی وتقوی وطہارت حاصل کرنے کے لئے برابر کرتے رہو۔دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لئے جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے جو دراصل سب سے مقدم ہے وہ دعا ہے۔اس لئے جس قدر ہو سکے دعا کرو۔یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرب اور مفید ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن : 61) تم مجھے