خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 348
348 اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حضرت مسیح موعود کے لئے خلیفہ اسیح کے لئے اور نظام جماعت کے لئے اتنی غیرت ہونی چاہئے کہ کسی سے کوئی اعتراض سنے تو برداشت نہ کرے۔کوئی ایسا فتنہ اُٹھ رہا ہو جو احمدیت میں فساد پیدا کرنے کا باعث ہو۔نظام جماعت میں رخنہ کا باعث ہوا سے برداشت نہ کرے۔اس مجلس میں نہ بیٹھے اور اُٹھ کر وہاں سے چلا آئے۔ہماری عورتوں کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی غرض اسلام کا استحکام ہے اور اسلام کا استحکام بھی اس وقت ہوگا جب جماعت مستحکم ہوگی۔جماعت میں کوئی نفاق نہ ہوگا۔جھگڑا نہ ہوگا۔قربانی کا جذبہ ہوگا۔اولا دوں کو دین کے لئے پیش کریں گی۔خاوندوں کو تبلیغ کیلئے وقف کرنے پر اکسائیں گی اور خود بھی حتی الوسع جماعت کے کاموں میں حصہ لیں گی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عزت کو پھر سے دنیا میں قائم کریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کریں اور اسلام کا جھنڈا دنیا کے سب جھنڈوں سے اوپر لہرائے۔آمین۔نویں شرط:۔نویں شرط بیعت کے الفاظ یہ ہیں:۔نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔شرط چہارم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ بنی نوع انسان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائے یہ منفی قسم کی نیکی ہے کہ انسان سے کسی کو شر نہ پہنچے لیکن مثبت قسم کی نیکی یہ ہے کہ انسان دوسروں کو خیر پہنچائے اور ان سے ہمدردی محبت پیار محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کرے یہ سمجھ کر کہ یہ بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس طرح میں ہوں ان کا بھی خالق وہی میرا بھی خالق وہی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متقیوں کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے: وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4) متقی وہ ہیں کہ نعمتیں ہم نے انہیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے خرچ کرتے اور باقی مخلوق خدا کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔مال میں سے مال خرچ کرتے ہیں۔علم میں سے علم خرچ کرتے ہیں اور جو صلاحیتیں اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کی ہیں ان سے مخلوق کو فائدہ پہنچاتے رہتے ہیں۔اپنے علم کے استعمال میں اپنے مال خرچ کرنے میں اپنے ہاتھ سے دوسروں کی خدمت کرنے میں بخل سے وہ کام نہیں لیتے یہی احمد یہ جماعت کے افراد کا شعار ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔