خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 347 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 347

347 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکساری اور حلیمی کو بہت پسند فرمایا ہے خوش اخلاقی پر بہت زور دیا ہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا کہ تم مسکراتے ہوئے چہرہ سے بھی کسی سے ملو گے تو یہ ایک اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے۔آٹھویں شرط :۔ہشتم یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولا د اور اپنے ہر ایک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔خلاصہ اس شرط کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول کی محبت اور آپ کے مذہب کی اشاعت ہمارا نصب العین ہو۔یہی مقصد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا ہے۔آپ کی بعثت کی غرض اللہ تعالیٰ کے نام کو دنیا میں بلند کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا میں گاڑنا ہے اور یہی آپ کی جماعت کا کام ہے اور جماعت کے ہر مرد اور عورت کا کام ہے اسی لئے تو ہم لجنہ اماءاللہ کا عہد نامہ دہراتے ہوئے یہ الفاظ دہراتی ہیں۔میں اقرار کرتی ہوں کہ اپنے مذہب اور قوم کی خاطر اپنے جان و مال، وقت اور اولادکو قربان کرنے کے لئے تیار رہوں گی۔گویا لجنہ اماءاللہ کے عہد نامہ کے الفاظ کا دہرانا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے جو عہد بیعت باندھا ہے۔اسے پورا کرنا ہمارا فرض اور نصب العین ہے۔دین کی خدمت کرنا صرف مردوں کا کام نہیں۔دینی لحاظ سے مردوں پر بھی ذمہ داریاں ہیں اور عورتوں پر بھی۔لیکن بسا اوقات عورت مرد کے پاؤں کی زنجیر بن کر اسے بھی خدمت دین سے محروم کر دیتی ہے۔مرد زندگی وقف کرتا ہے۔خدمت اسلام کے لئے اپنے تئیں پیش کرتا ہے۔عورت رونا دھونا شروع کر دیتی ہے۔کھائیں گے کہاں سے؟ اکیلے کیسے رہوں گی ؟ وغیرہ وغیرہ وہ یہ نہیں سوچتی کہ اگر مجھے خود اسلام کی تبلیغ کا موقع نہیں ملا تو میری کتنی خوش قسمتی ہے کہ میرے خاوند کومل رہا ہے اس کے جہاد میں جانے سے میں بھی اس کے ثواب میں شرکت کروں گی۔اسی طرح جماعت کو واقفین کی ضرورت پیش آتی ہے تو ماں باپ اپنے بچوں کو وقف کے لئے پیش نہیں کرتے کہ واقف زندگی کو گزارہ تھوڑا ملتا ہے اس کی بجائے اگر دنیوی نوکری کرے گا تو تنخواہ زیادہ ملے گی وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا رب رزاق بھی ہے۔اس شرط بیعت میں دین کے لئے غیرت کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ خدا کے لئے رسول