خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 349 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 349

دسویں شرط :۔349 دسویں شرط بیعت کی یہ ہے:۔دہم یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض اللہ باقرار طاعت۔در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی خاطر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق امام الزمان مانا ہے اور آپ کی بیعت کی ہے اس لئے آپ سے یا آپ کے خلفاء سے ہمارا تعلق باقی تمام دنیاوی تعلقات سے بالا ہونا چاہئے اور کسی کام میں بھی ان کی نافرمانی نہیں کرنی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عورتوں سے بیعت لی تو ان میں ایک شرط یہ تھی وَلَا يَعْصِینَ بِمَعْرُوفِ۔کسی اچھے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔یہی الفاظ بیعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء دہراتے رہے ہیں۔ہر نیک کام میں آپ کی فرمانبرداری کروں گی۔مگر سوچنے کا مقام ہے کیا اس عہد کو دہرانے کے بعد ہم اس پر پوری اتر رہی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے سارے دور خلافت میں بارہا عورتوں کو قرآن مجید پڑھنے اس کا ترجمہ سیکھنے اس کی تعلیم پر عمل کرنے اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزار نے خدمت دین میں حصہ لینے کے متعلق نصائح فرمائیں۔اس کے باوجود ہم میں ہزاروں کمزوریاں ہیں دین کا علم سکھنے کی طرف پوری پوری توجہ نہیں قومی کاموں میں حصہ لینے کی طرف توجہ نہیں اب حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پھر جماعت کے مردوں عورتوں کو قرآن ناظرہ اور ترجمہ سیکھنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔میری بہنو! آپ نے جو عہد کیا تھانا؟ کہ ہر نیک کام میں آپ کی پوری فرمانبرداری کریں گی۔کیا قرآن پڑھنا پڑھانا اوراس پر عمل کرنا امر بالمعروف نہیں۔اگر آپ اپنے عہد بیعت کو نباہنا چاہتی ہیں تو اس کا یہی واحد طریق ہے کہ ہر حکم جو حضرت خلیفہ اسیح کی طرف سے آپ کو دیا جائے اس میں ان کی کامل فرمانبرداری کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”اے میرے عزیز و ا میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو! جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے