خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 345
345 اصلاح کی ضرورت ہے۔شادی غمی مختلف تقاریب کے موقع پر ان سے بہت سی غیر شرعی رسوم کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے۔قرآن سادگی سکھاتا ہے۔اسراف سے منع فرماتا ہے عورتیں ناک کٹنے کے خیال سے بے جا خرچ کریں گی اور اس کے نتیجہ میں ان کے خاوندوں پر قرضہ ہو جائے گا۔اسلام نمائش و نمود سے روکتا ہے عورتیں جب تک جہیز بُری کا ایک ایک جوڑا سارے محلہ کو نہ دکھا لیں چین نہیں آتا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غرباء کا وہ طبقہ جو ویسے جوڑے بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا ان کی ریس میں قرضہ اُٹھا کر ویسے بنواتا ہے۔اسلام نا جائز مطالبہ کرنے سے روکتا ہے۔عام دیکھا جا رہا ہے کہ شادی کے وقت سسرال والے جوڑوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔اسلام تکلفات کو نا پسند کرتا ہے مگر عورتیں غیر ضروری خرچ محض نمائش کے لئے کرتی ہیں۔اسلام کہتا ہے باوجود دولت ہونے کے اسراف نہ کر و صرف ضرورت پر خرچ کرو۔عورتیں رہ نہیں سکتیں جب تک جو نیا فیشن کپڑے کا چلے اور وہ اس کا ایک جوڑا بنانہ لیں خواہ ضرورت ہو یا نہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔قال اللہ وقال الرسول پر عمل کرو ( ملفوظات جلد پنجم ص: 367)۔اور اس کا یہی طریق ہے کہ کوشش کی جائے کہ قرآن پاک کے کسی حکم کی نافرمانی نہ ہو۔پر وہ بھی قرآن کے حکموں میں سے ایک حکم ہے۔جو بہن پر دہ چھوڑتی ہے وہ دوسرے الفاظ میں صریحاً اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کر رہی ہوتی ہے یا اپنے عمل سے اس بات کا اعلان کر رہی ہوتی ہے کہ قرآن کا ایک حکم اس کے نزدیک اب قابل قبول عمل نہیں رہا۔ایسا کرنے والوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ پر غور کرنا چاہیے۔آپ فرماتے ہیں:۔تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اُٹھاؤ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔“ ساتویں شرط :۔احمدیت میں داخلہ کی ساتویں شرط مندرجہ ذیل ہے:۔روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح ص 26 ہفتم یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور علیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے تکبیر کو بہت ہی نا پسند فرمایا ہے۔فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالاً