خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 346
346 فَخُورًا (النساء: (37) اس طرح فرماتا ہے بِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِرِینَ۔تکبر کرنے والوں کا کیا ہی بُراٹھکانا ہے۔فخر اور تکبر کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انسان انکار کرے اور سمجھے کہ میرے اندرایسی خوبیاں ہیں جو دوسروں میں موجود نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اے کرم خاک ! چھوڑ دے کبر و غرور کو زیبا ہے کبیر حضرت رب غیور کو رپ بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی دخل ہو دار الوصال میں چھوڑو غرور و کبر۔کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک۔مرضی مولی اسی میں ہے تقویٰ کی جڑھ خدا کے لئے خاکساری ہے عفت جو شرط دیں ہے وہ تقویٰ میں ساری ہے نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام تکبر کی شدید مذمت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:۔( در شین ص: 113) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبر جیسی اور کوئی بلا نہیں۔یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رسوا کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کا رحم ہر ایک موحد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔“ روحانی خزائن جلد 5۔آئینہ کمالات اسلام ص 598 پھر آپ فرماتے ہیں:۔”میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔۔۔۔ہر ایک شخص جو اپنے بھائی کو اس لئے حقیر جانتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ عالم یا زیادہ عقلمند یا زیادہ ہنر مند ہے وہ متکبر ہے کیونکہ وہ خدا کو سر چشمہ عقل اور علم کا نہیں سمجھتا اور اپنے تئیں کچھ چیز قرار دیتا ہے کیا خدا قادر نہیں کہ اس کو دیوانہ کر دے اور اس کے اس بھائی کو جس کو وہ چھوٹا سمجھتا ہے اس سے بہتر عقل اور علم اور ہنر دے دے۔“ روحانی خزائن جلد 18 نزول مسیح ص 402)