خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 344 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 344

344 ہیں جو قرآنِ اولیٰ کے مسلمانوں نے کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ایک دوسرے مقام پر فرمایا : - إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا۔(حم السجدة: 31) یعنی جن لوگوں نے اپنے قول اور فعل سے بتا دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر انہوں نے استقامت دکھائی ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے۔۔۔۔۔استقامت بہت مشکل چیز ہے یعنی خواہ اُن پر زلزلے آئیں فتنے آئیں وہ ہر قسم کی مصیبت اور دُکھ میں ڈالے جاویں مگر ان کی استقامت میں فرق نہیں آتا اُن کا اخلاص اور وفاداری پہلے سے زیادہ ہوتی ہے ایسے لوگ اس قابل ہوتے ہیں کہ ان پر خدا تعالیٰ کے فرشتے اتریں اور انہیں بشارت دیں کہ تم کوئی غم نہ کرو۔ملفوظات جلد 4 ص 613 چھٹی شرط :۔بیعت کی چھٹی شرط یہ ہے:۔ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آجائے گا۔اور قرآن شریف کی حکومت کو بگلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ وقال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔شریعت اسلامیہ کے ماخذ صرف تین ہیں۔قرآن ، سنت اور حدیث۔قرآن سنت رسول اللہ اور حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو بات ہو وہ بدعت کہلاتی ہے۔ہمارا فرض ہے کہ اپنے ہر کام ہر معاملہ اور ہر تقریب میں اس امر کو مد نظر رکھیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل یا ارشاد کے صریحاً خلاف تو نہیں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔(الاحزاب : 22) أسوة حسنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لئے بطور نمونہ ہے اور آنحضرت ﷺ کی تمام زندگی قرآن کے محور کے گرد گھومتی ہے۔اسی کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے كَانَ خُلْقُهُ الْقُرْآنِ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے اس لئے اگر ہم اپنی زندگی کے ہر معاملہ اور ہر کام کو کرتے ہوئے یہ مد نظر رکھیں گے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہے تو یقیناً ہم بیعت کی اس شرط کو پورا کرنے والے ہوں گے اور ہمارا عمل قال اللہ وقال الرسول کے مطابق ہوگا۔عورتوں میں خاص طور پر بہت