خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 334
334 سے خدا نفرت کرے اس کا پھر کہاں ٹھکانا ! ایسا شخص خواہ کتنی نمازیں پڑھے۔عبادت کرے۔ظاہری نیکیاں کرے مگر جب اس کا خدا کے بندوں سے معاملہ ہی صاف نہیں تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ کوئی مرتبہ حاصل نہیں کر سکتا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شرط بیعت میں فساد سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے اور مغضوب الغضب ہونے سے منع فرمایا ہے۔فساد کے متعلق بھی یا درکھنا چاہئے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (القصص: 78) اللہ تعالیٰ کا سلوک اپنے بندوں سے وہی ہے جو ایک ماں یا باپ کا اپنے بچوں سے ہوتا ہے۔کوئی ماں پسند نہیں کرتی کہ اس کے بچے آپس میں لڑیں۔اسی طرح اگر کوئی شخص فساد کو ہوا دیتا ہے آپس میں لوگوں کولڑ واتا ہے یا کوئی عورت ادھر اُدھر کی لگائی بجھائی کر کے فساد کی بنا کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں ذلیل ہے۔بیعت کی شرط دوم کی آخری شق یہ ہے کہ ہر احمدی مغضوب الغضب ہونے سے بچے۔جب انسان کو یک دم غصہ آتا ہے تو اس کے ہوش ٹھکانے نہیں رہتے اور اس کی زبان یا ہاتھ چل پڑتے ہیں کبھی وہ گالیوں پر اتر آتا ہے اور کبھی مارنے لگ جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے نفس پر کمال قابو حاصل تھا۔آپ فرماتے ہیں:۔میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتار ہے آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔ملفوظات جلد 1 ص 302 کے پس احمدی مستورات کو چاہئے کہ ان سب باتوں پر عمل کرنے والیاں ہوں جو اس شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں تا حقیقی مسلمان کہلا سکیں۔یہ صفات صرف ہم میں پیدا نہ ہوں بلکہ اپنے بچوں میں بھی اور اپنی ملنے جلنے والیوں میں ان باتوں کو پیدا کرنے اور ان بُرائیوں سے بچنے کی تلقین کرتی رہیں۔تا جلد از جلد احمد یہ جماعت کی ہر عورت اسلام کا چلتا پھرتا نمونہ نظر آئے۔اور ان کی گودوں میں پلنے والے بچے بڑے ہو کر قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کا نمونہ ہوں۔اس کے بغیر ہم ساری دنیا کو فتح نہیں کر سکتے۔