خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 333
333 فرمایا ہے۔فجور کہتے ہیں بیہودہ گوئی کو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی چار نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔جب امین بنایا جائے تو خیانت کرتا ہے اور بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور لڑے تو بے ہودہ گوئی کرتا ہے۔غرض کہ فجور منافقت کی ایک نشانی ہے اس سے بچتے رہنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث ہے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کوسب سے زیادہ مسلم کتاب الایمان ) نا پسند وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ظلم سے اجتناب:۔بیعت کی شرط دوم کی ایک شق ظلم سے بچنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ (بخاری کتاب المظالم والغصب) مسلمان مسلمان کا بھائی ہے لہذا وہ اس پر ظلم نہ کرے اور اسے رسوا نہ کرے۔اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا :۔انصُرُ أَخَاكَ ظَالِماً اَوْ مَظْلُوماً (بخارى كتاب المظالم والغصب) تو اپنے بھائی کی مدد کر خواہ ظالم ہو یا مظلوم - مظلوم صحابہ نے عرض کیا حضور ! یہ تو ہم سمجھ گئے کہ مظلوم کی کس طرح مدد کریں مگر یہ نہیں سمجھے کہ ظالم کی کس طرح مدد کریں آپ نے فرمایا اس کا ہاتھ پکڑ لو یعنی اسے ظلم کرنے سے روکو یہی ظالم کی مدد ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (الشورى : 41) اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا ظلم اور محبت کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ چونکہ رؤوف رحیم ہے بڑا ہی محبت کرنے والا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ ظالم سے محبت نہیں کرتا۔خیانت سے بچنا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرط بیعت قرار دیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔اِنَّ اللهَ لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا۔(النِّسَاء : 108) اسی طرح فرماتا ہے اِنَّ اللهَ لا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ (الانفال: 59) اسلام نے دیانت داری پر کتناز ور دیا ہے کہ خائن خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل ہی نہیں کر سکتا۔اور جس