خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 335
335 بیعت کی تیسری شرط:۔تیسری شرط بیعت کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی ہے:۔سوم یہ کہ بلا ناغہ پنج وقتہ نماز موافق حکم خدا اور رسول کے ادا کرتا رہے گا۔اور حتی الوسع نماز تہجد کے پڑھنے اور اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور ہر روز اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔اس شرط میں مندرجہ ذیل امور کی ہدایت دی گئی ہے:۔1 - پنج وقتہ نما ز با شرائط ادا کرنی۔2- حتی الوسع نماز تہجد کی پابندی۔3۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا۔4۔اپنے گناہوں پر استغفار۔5- دلی محبت سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے حمد کرتے رہنا۔نماز کی اہمیت:۔پہلی چیز نماز کی ادائیگی ہے مرد کو تو نماز با جماعت مسجد میں جا کر پڑھنے کا حکم ہے لیکن عورت کے لئے گو مسجد میں جانے کا حکم نہیں لیکن نماز بہر حال پڑھنے کا حکم ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ۔(العنكبوت: 46) بُرائیوں سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ نماز کی ادائیگی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا بھاری فضل ہے کہ احمدیت کی وجہ سے ہماری عورتوں میں اتنی بھاری تبدیلی ہو چکی ہے کہ وہ تارک نماز نہیں لیکن یہ کمزوری ابھی باقی ہے کہ وقت پر نماز نہیں پڑھیں گی۔نماز کی شرائط میں یہ بات ضروری ہے کہ نماز وقت پر پڑھی جائے اور وقار کے ساتھ آہستہ آہستہ ادا کی جائے۔سکولوں کالجوں میں جانے والی طالبات عموماً ظہر کی نماز دیر سے ادا کرتی ہیں۔گھر آتے آتے نماز کا وقت نکل جاتا ہے۔ہماری بچیوں اور عورتوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے کہ نماز انتہائی مجبوری کے سوا ہمیشہ اول وقت پڑھوں کسی دعوت ، جلسہ تقریب کی وجہ سے نماز میں سستی نہیں ہونی چاہیے۔اس طرح بچوں کی نمازوں کی نگرانی کرنا بھی ماؤں کا کام ہے۔اگر بچپن سے وہ اپنے