خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 328
328 یہ حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کس قدر تڑپ تھی کہ خدا کی تو حید قائم ہو۔اس کا جلال ظاہر ہو اور دنیا شرک کی بیٹیوں سے رہائی پائے۔ہم جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سچا اور خدا تعالیٰ کا مامور مانا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم خود بھی تو حید پر قائم ہوں اپنی اولادوں کو بھی تو حید پر اتنا پکا کریں کہ شرک کہیں سے بھی ان کے دماغوں میں داخل نہ ہو سکے اور اپنی پوری طاقتوں کے ساتھ تثلیث کے خلاف جہاد کریں۔عورتوں پر تو یہ ذمہ داری بہت زیادہ عائد ہوتی ہے ایک تو وہ فطرتاً کمزور طبیعت ہونے کی وجہ سے بہت جلد شرک کی طرف راغب ہو جاتی ہیں دوسرے بچوں کی تربیت کی اہم ذمہ داری ان کے سپرد ہے۔اگر مضبوطی سے وہ خود توحید پر قائم نہیں ہوں گی تو اولاد بھی اس معیار کو نہیں پہنچ سکے گی۔بہت سے احباب با وجود مخلص احمدی ہونے کے اپنے بچوں کو عیسائی مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھجوا دیتے ہیں۔حالانکہ ان کے شہر میں دوسرے سکول موجود ہیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ صلیوں کے سایہ کے نیچے پروان چڑھنے والے بچے کا سر صلیب کیسے بنیں گے؟ ان کے دلوں میں تو بچپن سے ہی شرک کا بیج بویا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔وہ لوگ بھی جو میری پوری پیروی کرتے ہیں میرے روحانی گھر میں داخل ہیں۔پیروی کرنے کے لئے یہ باتیں ہیں کہ وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق النگل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح ص 10 66 اسی طرح آپ تحریر فرماتے ہیں:۔سوتم مصیبت کو دیکھ کر اور بھی قدم آگے رکھو کہ یہ تمہاری ترقی کا ذریعہ ہے اور اس کی توحید زمین پر 66 پھیلانے کے لئے اپنی تمام طاقت سے کوشش کرو روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح ص 11 غرض زمیں و آسمان کی پیدائش کی غرض اور انبیاء کی رسالت کی غرض اللہ تعالیٰ کی توحید کا قیام ہے اور جو شخص اعتقادی طور پر یا عملی طور پر تو حید باری کے صحیح مقام سے ذرا سا بھی ہٹتا ہے۔وہ دوسرے الفاظ میں رک پھیلانے کا موجب بنتا ہے اسی مقام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔یہ تین باتیں جس کسی میں ہوں گی وہ ایمان کی شیرینی کا مزہ پائیگا۔اللہ اور اس کا رسول اس کے