خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 329
329 نزدیک تمام ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں اور جس کسی سے محبت کرے تو اللہ ہی کے لئے اس سے 66 محبت کرے اور کفر میں واپس جانے کو ایسا برا سمجھے جیسے آگ میں ڈالے جانے کو “ شرک کی مختلف قسمیں:۔جس طرح ایمان کے مختلف مدارج اور مراتب ہوتے ہیں اسی طرح شرک کے بھی درجات ہیں مخفی در مخفی شرک کے بھی درجات ہیں۔مخفی در مخفی شرک انسان میں پیدا ہو جاتا ہے جس کا ابتداء میں اسے احساس بھی نہیں ہوتا لیکن آہستہ آہستہ وہی اس کی ہلاکت کا موجب ہو جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بچوں کو مارنے کے لئے بھی اس لئے منع فرمایا ہے کہ یہ بھی ایک طرح کا مخفی شرک ہے کہ ایک انسان کسی اور طریق سے بچوں کی اصلاح کرنے کی بجائے خدائی کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے۔قرونِ اولیٰ کے مسلمان جب ایمان لائے تو کون سے تکلیف تھی جو انہیں نہ دی گئی۔مردوں اور عورتوں کو بھی ہر قسم کے ہتھیاروں سے ان کی آزمائش کی گئی مگر ان کے مُنہ سے ایک ہی کلمہ نکلتا تھا۔اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا الله۔آج کا مسلمان سینکڑوں بدعات میں گرفتار ہے۔جن میں بہت سی ایسی ہیں جو صریحاً قرآن کے سنت رسول اللہ کے اور حدیث کے خلاف ہیں۔مگر پھر بھی وہ ان کو نہیں چھوڑتے صرف اس لئے کہ وہ ان کی قوم یا برادری میں رائج ہیں جن کے چھوڑنے سے ان کی ناک کٹتی ہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ مسلمان ہوکر صحیح مقام تو حید کوہم نہ پاسکیں۔اسلام کے تنزل کا باعث ہی یہی ہوا کہ نام کے مسلمان رہ گئے مگر عادات اور افعال مشرکوں کی آگئیں۔اسلام کا احیاء منحصر ہے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی حقیقی عزت دی جائے۔خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کو پھر سے دنیا میں قائم کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيْرٍ مِنْ خَيْرٍ مِنَ قَالَ لَا إِلَهَ قَلْبِهِ ( صحیح بخاری کتاب الایمان ) یعنی جو شخص لا إِلهَ إِلَّا الله کہہ دے اور اس کے دل میں ایک جو برابر نیکی یعنی ایمان ہو وہ بھی دوزخ سے نکالا جائے گا۔اس سے مراد صرف منہ سے لا الہ الا اللہ کہنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو حقیقی معنوں میں واحدہ لاشریک سمجھا اور اس کی تمام صفات پر ایمان رکھنا ہے۔