خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 327 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 327

327 وجہ سے اور عیسائیوں کے ساتھ رہنے کے باعث مسلمانوں میں بھی اس قسم کے عقائد پیدا ہو چکے تھے کہ انہوں نے حضرت عیسی کو زندہ آسمان پر مان کر اسلام میں عملاً شرک کا عقیدہ داخل کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں بہت سی اعتقادی اور عملی کمزوریاں آہستہ آہستہ ان میں پیدا ہوتی گئیں اور وہ حقیقی اسلام سے دور جا پڑے توحید کے منہ سے تو علمبردار تھے مگر عمل ان کا توحید کے خلاف تھا۔مشرکانہ رسوم کی پیروی پیروں کی قبروں پر جانا ان کے عرس کرنا وغیرہ سینکڑوں بدعتیں انہوں نے شروع کر دیں۔حیات مسیح کے عقیدہ سے عیسائیوں کو اور تقویت ملی اور انہوں نے ہندوستان میں کثرت سے عیسائی بنانے شروع کر دیئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کا سر صلیب بنا کر بھیجا تھا۔تو حید کے قائم کرنے کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ قرآن مجید کی رو سے پیش فرما کر گویا عیسائیت کی ریڑھ کی ہڈی ہی توڑ دی آپ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ عیسی کو مرنے دو اسی میں اسلام کی زندگی ہے۔آپ کے لئے یہ امرنا قابل برداشت تھا کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کو خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔چونکہ میں تثلیث کی خرابیوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں اس لئے یہ دردناک نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے۔میرے دل پر اس قدر صدمہ پہنچا تا رہا ہے کہ میں گمان نہیں کر سکتا کہ مجھ پر میری تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی غم گزرا ہو۔بلکہ اگر ہم وقتم سے مرنا میرے لئے ممن ہوتا تو یہی مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگ خدائے واحد لاشریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں اور کیوں یہ لوگ اس نبی پر ایمان نہیں لاتے جو سچی ہدایت اور راہِ راست لے کر دنیا میں آیا ہے۔ہر ایک وقت مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اس غم کے صدمات سے میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔۔۔اور میرا اس درد سے یہ حال ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشت چاہتے ہیں تو میرا بہشت یہی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائی پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لوں اور میری روح ہر وقت دعا کرتی ہے کہ اے خدا! اگر میں تیری طرف ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ دن دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اٹھا دی جائے کہ نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعویٰ کیا ایک زمانہ گزر گیا کہ میرے پنج وقت کی یہی دعائیں ہیں کہ خدا ان لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کرلیں اور تثلیث کے اعتقاد سے توبہ کریں۔“ تبلیغ رسالت جلد ہشتم ص 71-72