خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 326 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 326

326 ابتدائے عالم سے تمام انبیاء کی رسالت کی غرض دنیا میں توحید کا قیام تھا۔ہر نبی اپنی اپنی قوم کو اس طرف دعوت دیتا چلا آیا ہے کہ خدا وحدہ لاشریک ہے اسے مانو اور اسی کی عبادت کرو۔توحید اسلام کی بنیادی باتوں میں سے ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے تھے کہ اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر رکھی گئی ہے۔جن میں سے پہلی بات یہ ہے کہ دل اور زبان سے انسان یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی قابل پرستش نہیں قرآن مجید سارا کا سارا توحید کی تعلیم سے بھرا پڑا ہے اور شرک کے خلاف ایک شمشیر برہنہ نظر آتا ہے۔کامل توحید کا قیام صرف آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے ہوا تھا۔آنحضرت ﷺ نے جب عورتوں سے بیعت لی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ارشاد فرمایا يايُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنتُ يُبَايِعُنَكَ عَلَى أَنْ لَّا يُشْرِكُنَ۔(الممتحنة: 13) کہ اے نبی محمد ﷺ آپ مومن عورتوں سے اس شرط پر بیعت لیں کہ وہ شرک نہیں کریں گی۔آنحضرت ﷺ کے بعد ایک عرصہ کے گزارنے کی وجہ سے لوگوں میں پھر قبر پرستی پیر پرستی۔مزاروں پر چڑھاوے چڑھانے وغیرہ بدعات رائج ہو گئیں خدا تعالیٰ پر توکل کی جگہ گنڈوں تعویذوں نے لے لی لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت نے جوش مارا اور اس نے دنیا کی اصلاح کے لئے آنحضرت ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق آپ کے ہی ایک غلام کو بھجوایا تا وہ دنیا سے شرک کو دور کر کے توحید کا قیام کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود اپنی بعثت کی غرض مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔اب اتمام محبت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اسی کے موافق جو ابھی میں نے ذکر کیا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پاکر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریت کے لباس میں اس الٹی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں“۔روحانی خزائن جلد 5۔آئینہ کمالات اسلام ص 251 اسلام پر سب سے بڑا حملہ اسلام پر سب سے بڑا حملہ جو شرک پیدا کر رہا تھا دجالیت کا تھا۔مسیحی اقوام نے ایک خدا کی بجائے تین خداؤں کا عقیدہ پیدا کر کے شرک کی بنیاد رکھ دی۔ہندوستان میں عیسائی حکومت کے زیر سایہ رہنے کی