خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 325
325 دس 10 شرائط بیعت ہمارا دستور العمل مورخہ 12 اپریل 1966ء کو لجنہ اماءاللہ پشاور کے اجتماع میں حضرت سیدہ ام متین صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے مندرجہ بالا موضوع پر اہم تقریر فرمائی۔شرائط بیعت:۔جب انسان کسی جماعت کے ساتھ تعلق پیدا کرتا ہے یا کسی سوسائٹی کا ممبر بنتا ہے تو اس جماعت یا اس سوسائٹی کی کچھ ذمہ داریاں یا شرائط ایسی ہوتی ہیں جن کا بجالانا اس پر فرض ہوتا ہے۔احمدیت کسی نئے مذہب کا نام نہیں بلکہ احمدیت ، اسلام کی ہی نشاۃ ثانیہ کا نام ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض پھر سے اللہ تعالیٰ کے جلال اور عظمت کو دنیا میں قائم کرنا اور آنحضرت ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا احیاء کرنا ہے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت لینی شروع کی اور جماعت کی بنیاد قائم ہوئی تو آپ نے ہر مرد اور عورت جس نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو قبول کیا اس کے لئے کچھ شرائط مقرر کیں۔گویا وہ شرائط بیعت شرائط ہیں احمدیت میں داخلہ کی اور ان کا پورا کرنے والا مرد یا عورت ہی حقیقی احمدی اور حقیقی مسلمان کہلا سکتا ہے وہ شرائط کوئی نئی چیز نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیش فرمائی بلکہ وہ نچوڑ ہے قرآن مجید کی تعلیم کا اور نچوڑ ہیں آنحضرت ﷺ کے اقوال مقدسہ اور آپ کی نصائح کا۔ہم جو لجنہ اماءاللہ کی مبرات ہیں اور احمد یہ جماعت کی خواتین ہیں ہمارا نصب العین اور ہمارا دستور العمل بھی ان شرائط کی ادائیگی ہی ہے۔ان شرائط پر پورا اترے بغیر ایک احمدی عورت نام کی احمدی تو ضرور ہوگی مگر حقیقی احمدی نہیں ہوگی۔اگر ہم ان شرائط پر پوری اترتی ہیں تو یقیناً ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طور پر پورا کر دیا گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقرر کردہ دس شرائط بیعت ایک کسوٹی ہیں۔احمدیت کے امتحان کو پاس کرنے کی۔پہلی شرط۔شرک سے اجتناب :۔سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ بیعت کننده سچے دل سے عہد اس بات کا کرے کہ آئیندہ اس وقت تک کہ قبر میں داخل ہو جائے شرک سے مجتنب رہے گا۔“