خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 324 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 324

324 اور سورہ الناس۔( بخاری کتاب الطب ) ان دردمندانہ دعاؤں کے نتیجہ میں خدا کی طرف سے نصرت اس حد تک ہوئی کہ دوست دشمن سب حیران رہ گئے۔خداوند تعالیٰ نے فرمایا اے مسلمانوں اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تم سے محبت کرے تو رسول کریم کی کامل فرمانبرداری کرو۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ تیرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ دراصل میرے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔آپ کے بلند مقام کا احترام قرآن پاک میں موجود ہے۔پھر بھی آپ فرماتے تھے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔مگر میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔آپ دعا کرتے خدا میرے چاروں طرف نور بھر دے۔آپ کی زندگی کا ہر فضل خدائی مخلوق کی بہتری میں گذرا۔آپ کی فطرت کو شروع سے ہی کھیل کو د سے نفرت تھی۔آپ دوسرے بچوں سے بالکل الگ طبیعت رکھتے تھے۔آپ ایسے دور میں پیدا ہوئے جبکہ ہر طرف تاریکی کا دور دورہ تھا۔آپ نے دنیا کو خدا کا حسن دکھانے کی پوری پوری کوشش کی۔آپ کو طرح طرح کی تکالیف دی گئیں کہیں آپ پر پتھر برسائے گئے کہیں کوڑا کرکٹ پھینکا گیا۔کبھی گالیاں دی گئیں مجنوں اور دیوانہ کے لقب سے پکارا گیا۔مگر آفرین ہے آپ کے خلق عظیم پر۔آپ ہمیشہ دعا کرتے کہ اے خدا میری قوم کو ہدایت دے۔جب آپ پر پہلی دفعہ وحی نازل ہوئی تو آپ لرزاٹھے۔گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ خدیجہ مجھے کمبل اوڑھا دو میری طبیعت پر بوجھ ہے۔مگر حضرت خدیجہ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ خدا آپ کو کبھی بھی ضائع نہیں کرے گا۔آپ ہمیشہ اخلاق حسنہ سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں۔کیا ایسا شخص کبھی نا کامیاب ہو سکتا ہے؟ اور یہی وجہ ہے کہ خدا نے آپ کو ہر ایک صفت میں کامل پا کر دین اسلام کی تکمیل آپ کے ذریعہ کی متحمل آپ میں اس قدر تھا کہ باوجود اس کے کہ خدا نے آپ کو بادشاہت عطا کی مگر آپ بڑی انکساری کا اظہار فرماتے ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے۔یہاں تک کہ جاتے جاتے لوگ راستہ روک لیتے۔رسول کریم نے فرمایا کہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھو۔اپنے ہمسایوں کو دکھ نہ دو۔مہمانوں کی خدمت کرو۔وہ شخص ہرگز مومن نہیں جس کا ہمسایہ اس سے محفوظ نہیں۔آپ ہمیشہ نصیحت فرماتے کہ حسن سلوک میں مذہب کی خصوصیت نہیں ہر ایک اس کا حقدار ہے۔عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کرنے کے علاوہ رسول کریم نے غلاموں پر شفقت کرنے کی تلقین فرمائی۔بیمار کی عیادت کے لئے خود تشریف لے جاتے۔آپ مجسم شفقت تھے ہر ایک کے لئے خواہ اپنے ہوں یا بریگا نے آپ رحمت تھے۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خدا کے لئے وقف تھا۔اور اسی کیفیت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔محمد کی شان کو خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔محبوب حقیقی کی خوشبو آپ سے آرہی ہے۔دعا کے بعد جلسہ برخاست ہوا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ مصباح جون 1966 ء