خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 323
323 گا کہ وہ سارے خدا کے ہو گئے۔تو کس طرح فرشتوں نے ان کی مدد کی اور دشمنوں پر فتح پائی۔خدا کا یہ احسان عظیم ہے کہ نبی کریم کی زندگی کے حالات جتنے زیادہ ہیں کسی اور کے نہیں۔اسی لئے آپ کی زندگی ایک روشن کتاب ہے جسے دیکھ کر منہ سے بے اختیار نکلتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - رسول کریم ﷺ کی عمر 30 سال سے زیادہ ہوئی تو آپ لوگوں کی خرابیوں سے متنفر ہو کر ایک پہاڑی غار میں خدا کی عبادت میں مشغول رہنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آپ کے وجود با برکت سے پشتوں کے بگڑے ہوئے سدھر گئے۔اور دنیا میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو گیا۔جو کہ رسول کریم کی دن رات کی دعاؤں کا نتیجہ تھا۔ابتدائے اسلام میں جو کچھ ہوا وہ بھی رسول کریم کی دعاؤں کی برکت تھی۔عرب کے لوگوں سے نکل کر اسلام تمام دنیا میں پھیل گیا۔آپ کی تمام زندگی عشق خدا میں مصروف تھی۔آپ تمام رات عبادت میں مشغول رہتے۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ فرمایا کہ آپ خدا کے رسول ہو کر اتنی تکالیف کیوں اٹھاتے ہیں۔آپ نے فرمایا کیوں میں خدا کا شکر ادا نہ کروں۔نماز کی پابندی کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ آپ بیماری کے وقت سہارا لے کر بھی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے جاتے۔مکہ میں لوگوں نے ہر طرح کی کوشش کی کہ آپ کسی طرح بتوں کی پرستش کریں۔اور کہا کہ جو کچھ چاہیں آپ سے لیں۔اگر مال کی ضرورت ہو تو ہم آپ کو مالا مال کر دیں گے اور اگر خوبصورت بیوی کی ضرورت ہے تو وہ بھی دے دیں گے مگر آپ دھن کے پکے نکلے۔ایک دفعہ لوگوں نے ابو طالب سے کہا کہ آپ انہیں سمجھا ئیں جواب میں حضور نے فرمایا کہ اے چا اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند رکھ دیں تو بھی میں خدائے واحد کی پرستش کبھی نہیں چھوڑوں گا۔جنگ اُحد کے موقع پر ابوسفیان نے مشہور کر دیا کہ رسول کریم شہید ہو گئے ہیں۔اس پر حضرت عمرؓ جنہیں حضور سے بے انتہا پیار تھا۔غصے کی حالت میں جواب دینے لگے کیونکہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص ایسی خبر پھیلائے۔مگر حضور نے فرمایا کہ بس جواب مت دیجئے۔لیکن جب کفار اپنے بتوں کی تعریف کرنے لگے تو آپ سے برداشت نہ ہو سکا اور آپ نے لوگوں کو فرمایا تم ان کے جواب میں کہ اللہ تعالیٰ بلند اور جلال والا ہے۔ہمارا دوست خدا ہے دشمنوں کا کوئی نہیں۔ایسی حالت میں جبکہ آپ بالکل بے یار و مددگار تھے۔آپ نے توحید کے متعلق برملا غیرت کا اظہار فرمایا اور کسی قسم کے خطرہ کی پروانہ کی۔آپ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل کرتے اور اس طرح آپ کی ہر مشکل آسان ہو جاتی۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ - حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ہمیشہ سوتے وقت سورتیں پڑھتے خاص کر سورہ اخلاص۔سورہ فلق