خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 298 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 298

298 عطا کی آپ ﷺ ہر ایک کی بات سنتے اگر کوئی شخص سختی بھی کرتا تو آپ ﷺے خاموش ہو جاتے۔آپ جب باہر تشریف لے جاتے لوگ آپ ﷺ کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے اور اپنی حاجات بیان فرماتے جب تک وہ اپنی بات ختم نہ کر لیتے آپ کے سنتے رہتے۔ایک دفعہ آپ ﷺے صدقہ و خیرات تقسیم فرمارہے تھے ایک شخص کو خیال ہوا کہ مجھے کم حصہ ملا ہے اس نے آپ ﷺ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔صحابہ برداشت نہ کر سکے۔حضرت عمر نے تلوار نکال لی مگر آپ نے فرمایا اسے کچھ نہ کہو۔آپ ﷺ کے پاس ایک بدوی آیا اسے معلوم نہ تھا کہ مسجد میں پیشاب کرنا منع ہے وہ آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔صحابہ اٹھے کہ اسے نکالیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسے کچھ نہ کہو اس کا پیشاب رک جائے گا اس بیچارے کو معلوم نہیں کہ یہاں پیشاب کرنا منع ہے جب یہ پیشاب کرلے تو پانی لے کر مسجد کو دھو دو۔اللہ اللہ کس شان کے تحمل اور نرمی کے سلوک کا مظاہرہ ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - عدل اور انصاف:۔اعلیٰ اخلاق میں سے ایک خلق انصاف ہے۔عام طور پر یہ بات مشاہدہ میں آتی ہے کہ بڑے آدمیوں کو سزا دیتے وقت حاکم گھبرا جاتے ہیں لیکن معمولی اور غریب طبقہ کے لوگوں کو سزامل جاتی ہے۔آنحضرت کے پاس ایک مقدمہ آتا ہے جس میں ایک بڑے خاندان کی عورت نے کسی کا مال لیا تھا جب بات ظاہر ہوگئی تو لوگوں نے چاہا کہ اس عورت کو سزا نہ ہونے دیں ایک بڑے گھر کی عورت ہے بدنامی ہوگی لوگوں نے اسامہ بن زید سے کہا کہ آپ رسول کریم ﷺ کے پاس سفارش لے کر جائیں۔اسامہ گئے ابھی بات شروع ہی کی تھی کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس قسم کا جرم کرتی تو میں اسے سزا دیئے بغیر نہ رہتا۔مسلم کتاب الحدود بدر کی جنگ کا واقعہ ہے کہ حضرت عباس جو رسول کریم ﷺ کے چچا تھے اور ابھی اسلام نہ لائے تھے جنگ میں قید ہوئے جہاں قیدی بندھے ہوئے تھے اس کے قریب ہی آپ ﷺ کا خیمہ تھا۔حضرت عباس کے کراہنے کی آواز آپ کو پہنچی تو آپ ﷺ بے چین ہو گئے۔صحابہ نے جو آپ ﷺ کی بے چینی اور کرب دیکھا تو حضرت عباس کے ہاتھوں کی رسیاں ڈھیلی کر دیں۔آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا