خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 299 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 299

299 تو آپ ﷺ نے فرمایا جیسے میرے رشتہ دار ویسے دوسروں کے رشتہ دار یا ان کی بھی رسیاں ڈھیلی کر دیا ان کی بھی کسی دو۔صحابہ چونکہ آپ ﷺ کی تکلیف دیکھ نہ سکتے تھے انہوں نے سب کی رسیاں کھول دیں اور پہرہ کا انتظام کر دیا۔ایفائے عہد :۔آپ ﷺ وعدہ اور عہد کے پورا کرنے کے بہت پابند تھے اور ایسا ہی کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے جب اسلامی جنگیں ہوئیں تو اس میں علاوہ دیگر نصائح کے آپ ﷺ کی سب سے بڑی نصیحت یہ تھی کہ تم ہمیشہ معاہدہ کی پابندی کرو۔ایک دفعہ ایک حکومت کا ایلچی آپ ﷺ کے پاس آیا اور چند روز میں ہی اتنا متاثر ہوا کہ اسلام لے آیا اور عرض کی میں اسلام لا چکا ہوں کیا اعلان کر دوں آپ ﷺ نے فرمایا یہ مناسب نہیں تم اپنی حکومت کے ایلچی ہو اسی حالت میں واپس جاؤ۔وہاں جا اگر تمہارے دل میں اسلام کی محبت قائم رہی تو پھر واپس آکر اسلام قبول کرنا۔(ابوداؤد) اسی طرح عبد اللہ بن ابی المساء سے ایک روایت ہے کہ اسلام سے قبل میں نے ایک معاملہ کیا تھا جس کی ادائیگی باقی تھی میں نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ میں اسی جگہ ادا ئیگی آ کر کر دوں گا گھر آ کر میں بھول گیا تین روز کے بعد یاد آیا پہنچا تو آنحضرت ﷺے اسی جگہ تشریف رکھتے تھے آپ نے عبداللہ بن ابی الحمساء کو دیکھ کر صرف اتنافر مایا تم نے مجھے تکلیف دی میں تین دن سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ پابندی عہد کا سب سے بڑا نمونہ صلح حدیبہ کے وقت آپ ﷺ نے دکھایا۔صلح حدیبیہ کی شرائط میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اگر کوئی لڑکا جس کا باپ زندہ ہو یا چھوٹی عمر کا ہو وہ اپنے باپ کی مرضی کے بغیر محمد (ﷺ) کے پاس جائے تو اس کے باپ یا متولی کے پاس واپس کر دیا جائے گا۔اتفاق ایسا ہوا کہ ادھر آنحضرت ﷺ اور مکہ والوں کے درمیان معاہدہ پر دستخط ہوئے ادھر سہیل ابن عمر و جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہا تھا اس کا اپنا بیٹا ( ابو جندل ) رسول کریم ﷺ کے قدموں میں آ کر گر گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ اسلام کی صداقت مجھ پر کھل گئی ہے۔میرا باپ اسلام لانے کی وجہ سے مجھ پر عذاب تو ڑ رہا ہے میں موقع نکال کر بھاگ آیا ہوں۔آنحضرت ﷺ ابھی جواب بھی نہ دینے پائے تھے کہ سہیل نے کہا معاہدہ ہو چکا ہے اس کو میرے ساتھ واپس جانا ہوگا۔ابو جندل کی حالت دیکھ کر