خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 291 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 291

291 میں بھید یہ تھا کہ تارسول اللہ ﷺ کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپ یہ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ میں ہوں۔یہ خلق عظیم تھا۔ایک وقت آتا ہے کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں تھیں کہ قیصر و کسریٰ کے پاس بھی نہ ہوں۔آپ ﷺ نے وہ سب ایک سائل کو بخش دیں۔اب اگر پاس نہ ہوتا تو کیا بخشتے۔اگر حکومت کا رنگ نہ ہوتا تو یہ کیونکر ثابت ہوتا کہ آپ ﷺ واجب القتل کفار مکہ کو باوجود مقدرت انتقام کے بخش سکتے ہیں جنہوں نے صحابہ کرام اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور مسلمان عورتوں کو سخت سے سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی تھیں جب وہ سامنے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف : 93) میں نے آج تم کو بخش دیا اگر ایسا موقع نہ ملتا تو ایسے اخلاق فاضلہ حضور ﷺ کے کیونکر ظاہر ہوتے یہ شان آپ ﷺ کی اور صرف آپ کی ہی تھی۔کوئی ایسا خُلق بتلاؤ جو آپ ﷺ میں نہ ہو اور پھر بدرجہ غایت کامل طور پر نہ ہو۔ملفوظات جلد اول صفحہ 84 85 اس مجمل خاکہ کے بعد اب میں آپ ﷺ کے اخلاق پر تفصیلی نظر ڈالتی ہوں اور اس سلسلہ میں سب سے پہلے آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی کو لیتی ہوں کیونکہ جس کی اپنی زندگی پاکیزہ نہ ہو وہ دنیا کو درس اخلاق نہیں دے سکتا۔اخلاق اور پاکیزگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے غیر پاکیزہ انسان سے اعلیٰ اخلاق سرزد ہو ہی نہیں سکتے۔آپ ﷺ نے چالیس سال کی عمر میں دعویٰ نبوت فرمایا لوگوں نے جب تکذیب شروع کی تو آپ ﷺ نے ساری دنیا کولکار کر فرمایا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (یونس: 17) دعوی سے پہلے کی میری ساری زندگی ایک روز روشن کی طرح تمہارے سامنے ہے اگر میں نے کبھی تم سے جھوٹ نہیں بولا۔فریب نہیں کیا تو خدا تعالیٰ کے معاملہ میں کس طرح فریب سے کام لے سکتا ہوں اگر کوئی قابل اعتراض پہلو میرے اخلاق یا میری زندگی کا تمہیں کبھی بھی نظر آیا ہو کبھی جھوٹ بولا ہو۔دھوکہ دہی سے کام لیا ہو تو بتا دو لیکن آپ ﷺ کے اس چیلنج کا جواب تمام مشرکین مکہ میں سے کوئی نہ دے سکا اور دے بھی کیسے سکتا تھا جبکہ آپ ﷺ کی زندگی نہایت پاکیزہ آپ ﷺ کے اطوار نہایت اعلیٰ اور آپ ﷺ کے اخلاق انتہائی پسندیدہ تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے اشد ترین دشمن ابو جہل نے بھی یہی کہا کہ اِنا لَا نُكَذِّبُ مُحَمَّدًا بَلْ نُكَذِّبُ مَا جَاءَ بِہ۔یعنی ہم محمد(ﷺ ) پر جھوٹ کا الزام نہیں لگاتے بلکہ جو وہ تعلیم دیتا ہے اس کی تکذیب کرتے ہیں۔