خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 292 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 292

292 اسی طرح ابوسفیان جب ہر قل شہنشاہ روم کے پاس پیش ہوا تو اس نے ابوسفیان سے آنحضرت کے متعلق سوالات کئے کہ کیا تم نے دعویٰ سے قبل ان کا کوئی جھوٹ دیکھایا انہوں نے کوئی عہد توڑا۔ابوسفیان نے ہر بات سے انکار کیا ہر قل نے پوچھا وہ تمہیں کیا تعلیم دیتے ہیں۔ابوسفیان نے کہاوہ کہتے ہیں ایک خدا کی پرستش کرو۔سچ بولو۔امانتیں ادا کرو۔ایفائے عہد کر دوغیرہ وغیرہ۔امیہ بن خلف آپ ﷺ کا جانی دشمن تھا۔سعد بن معاذ نے اس کو بتایا کہ آنحضرت ﷺ نے تیرے قتل کی پیشگوئی کی ہے۔آپ ﷺ کی صداقت کا دل میں اسے اتنا یقین تھا کہ سن کر وہ خوف زدہ ہو گیا اور بے اختیار کہنے لگا محمد ( ﷺ ) جو کہتے ہیں وہ غلط نہیں ہوتا۔آپ ﷺ کی پاکیزہ عادات کے متعلق آپکے چچا ابوطالب شہادت دیتے ہیں کہ لَمُ اَرَيْنَهُ كَذِبَهُ وَلَا ضِحُكًا وَلَا جَاهِلِيَّةٌ وَلَا وِقْفًا مَعَ الصِّبْيَانِ کہ میں نے آپ ﷺ کو جھوٹ بولتے ہوئے بے ہودہ مذاق کرتے ہوئے جاہلیت کے کام کرتے ہوئے یا بیہودہ لڑکوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔اپنی پاکیزگی اور تقدس کے متعلق آپ ﷺ کی اپنی بے لاگ شہادت بھی ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا آپ کی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپکو ورقہ بن نوفل کے پاس لے کر گئیں جو ایک عالم تھے آپ ﷺ نے ان سے تمام حالات بیان فرمائے ورقہ سمجھ گئے کہ آپ علی پر وحی الہی نازل ہوئی ہے انہوں نے کہا تمہاری قوم تمہیں وطن سے نکال دے گی کاش میں اس وقت جوان ہوتا اور تمہاری مدد کرتا۔بے ساختہ اور بے اختیار آپ ﷺ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے اَوَ مُخْرِجِيَّ هُمُ ( صحیح مسلم کتاب الایمان ) وہ مجھے نکال دیں گے؟ کیسے مجھے وہ نکال سکتے ہیں۔میں نے ہمیشہ اپنی قوم کی خیر خواہی اور ہمدردی کی ہے ان کے ساتھ کسی قسم کی برائی نہیں کی پھر وہ کیوں مجھے نکال دیں گے؟ ان الفاظ میں کوئی تکلف نہیں تصنع نہیں بناوٹ نہیں۔دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی ایک صداقت کی آواز ہے جس کی تردید اسلام کا بڑے سے بڑا دشمن بھی آج تک نہ کر سکا نہ کر سکتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - خاوند کی سب سے بڑی راز دان اس کی بیوی ہوتی ہے۔انسان اپنے عیوب دوسروں سے چھپا سکتا ہے مگر بیوی سے کوئی راز پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر تمام دنیا کی