خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 290
290 تعلق رہتا ہے اگر دکھ اور تکالیف آئیں ہی نہیں تو کیونکر معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ اخلاص استقلال اور صبر کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے یا شکوہ کرنے لگ جاتا ہے۔(دوم) دوسرا معیار یہ ہے کہ انسان کو عروج حاصل ہو تو اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ رہتا ہے۔اپنے دشمنوں سے حسن سلوک کرتا ہے؟ عفو سے کام لیتا ہے یا انتقام پر کمر بستہ ہو جاتا ہے۔پس ان اصولوں کو مدنظر رکھ کر آنحضرت ﷺ کی سیرت اور آپ ﷺ کے اخلاق فاضلہ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر پہلو سے آپ کامل نمونہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: آپ ﷺ کیا بلحاظ اپنے اخلاق فاضلہ کے اور کیا بلحاظ اپنی قوت قدسی اور عقد ہمت کے اور کیا بلحاظ اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل کے اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعاؤں کی قبولیت کے۔غرض ہر طرح اور پہلو میں چمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے اندر رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک غیبی سے غیبی انسان بھی بشرطیکہ اس کے دل میں بے جا غصہ اور عداوت نہ ہو صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپ ﷺ تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ کا کامل نمونہ اور کامل انسان ہیں۔“ الحکم 10 اپریل 1902ء پھر آنحضرت ﷺ کے اخلاقی اعجاز کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک وقت آتا ہے کہ آپ ﷺ فصاحت بیانی سے ایک گروہ کو تصویر کی صورت حیراں کر رہے ہیں۔ایک وقت آتا ہے کہ تیروتلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔علم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔الغرض رسول اللہ ﷺ کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدا تعالیٰ نے دکھا دیا ہے اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے۔اس کا پھل اس کا پھول اور اس کی چھال اس کے پتے غرضیکہ ہر چیز مفید ہو۔آنحضرت ﷺ اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں جس کا سایہ ایسا ہے کہ کروڑ ہا مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام اور پناہ لیتی ہے۔لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت ﷺ کے پاس ہوتا تھا کیونکہ آپ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے سبحان اللہ ! کیا شان ہے احد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہ برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ مرد میدان سینہ سپر ہو کر لڑ رہا ہے۔اس