خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 289
289 تباہ ہو چکی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم: 42) یعنی جنگل بھی بگڑ گئے اور دریا بھی بگڑ گئے یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جو اہل کتاب کہلاتے ہیں وہ بھی بگڑ گئے اور جو دوسرے لوگ ہیں جن کو الہام کا پانی نہیں ملا وہ بھی بگڑ گئے۔پس قرآن شریف کا کام دراصل مُردوں کو زندہ کرنا تھا جیسا کہ وہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد : 18) یعنی یہ بات جان لو کہ اب اللہ تعالیٰ نئے سرے سے زمین کو بعد اس کے مرنے کے زندہ کرنے لگا ہے۔اس زمانہ میں عرب کا حال نہایت درجہ کی وحشیانہ حالت تک پہنچا ہوا تھا اور کوئی نظام انسانیت کا ان میں باقی نہیں رہا تھا اور تمام معاصی ان کی نظر میں فخر کی جگہ تھے۔ایک ایک شخص صد ہا بیویاں کر لیتا تھا۔حرام کا کھانا ان کے نزدیک ایک شکار تھا۔ماؤں کے ساتھ نکاح کرنا حلال سمجھتے تھے۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا کہ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ أُمَّهَاتُكُمُ (النساء: 24) یعنی آج مائیں تمہاری تم پر حرام ہوگئیں۔ایسا ہی وہ مردار کھاتے تھے آدم خور بھی تھے دنیا کا کوئی بھی گناہ نہیں جو کرتے تھے اکثر معاد کے منکر تھے۔بہت سے ان میں سے خدا کے وجود کے بھی قائل نہ تھے۔لڑکیوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کر دیتے تھے۔یتیموں کو ہلاک کر کے ان کا مال کھاتے تھے بظاہر تو انسان تھے مگر عقلیں مسلوب تھیں نہ حیا تھی نہ شرم تھی نہ غیرت تھی۔شراب کو پانی کی طرح پیتے تھے جس کا زنا کاری میں اول نمبر ہوتا تھا وہی قوم کا رئیس کہلاتا تھا۔بے علمی اس قدر تھی کہ اردگرد کی تمام قوموں نے ان کا نام اتمی رکھ دیا تھا۔ایسے وقت میں اور ایسی قوموں کی اصلاح کے لئے ہمارے سید ومولی نبی ﷺ شہر مکہ میں ظہور فرما ہوئے۔پس اسی وجہ سے قرآن شریف دنیا کی تمام ہدایتوں کی نسبت اکمل اور اتم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ دنیا کی اور کتابوں کو ان تین قسم کی اصلاحوں کا موقع نہیں ملا اور قرآن شریف کو ملا اور قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بنا دے اور انسان سے با اخلاق انسان بنادے اور با اخلاق انسان سے باخدا انسان بنا دے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شعر میں کس قدر خوبصورتی سے اس تمام مضمون کو بیان فرمایا ہے صَادَفْتَهُمْ قَوْمًا كَرَوْثٍ ذِلَّةٌ فَجَعَلْتَهُمْ كَسَبِيكَةِ الْعِقْيَانِ انسان کے اخلاق کو پرکھنے کے لئے دو بڑے معیار ہیں:۔(اول) اگر وہ مصائب اور تکالیف میں مبتلا ہو تو اس وقت اس کا خدا تعالیٰ اور بنی نوع انسان سے کیسا