خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 288
288 آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا ذکر تفصیلا کرنے سے قبل آپ ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کی حالت بیان کرنی ضروری ہے تا معلوم ہو کہ آپ کی بعثت کے وقت عرب کے لوگوں کے اخلاق کیا تھے الله ان کی روحانی حالت کا نقشہ کیا تھا؟ اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم آپ ﷺ کے اخلاق آپ ﷺ کے عملی نمونہ اور آپ کی قوت قدسیہ نے ان کو کیا سے کیا بنا دیا۔قرآن مجید سے مصلح کی آمد کی ایک دلیل ضرورت زمانہ کوٹھہراتا ہے یعنی اس کی سچائی کی بھاری دلیل یہ ہے کہ زمانہ پکار پکار کر کہہ رہا ہو کہ واقعی اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے۔آنحضرت ے جس مبعوث ہوئے دنیا تو حید کو بھول چکی تھی۔شرک اور فسق و فجور میں گرفتار تھی۔پاکیزگی کا نام ونشان نہ تھا۔انصاف اور عدل کا کوئی نام نہ جانتا تھا کوئی منظم حکومت نہ تھی۔وحشیوں اور درندوں کی طرح آپس میں لڑتے تھے۔شراب نوشی۔قمار بازی اور بدکاری ان کا شغل تھا۔عورت کا احترام تو کجا نہایت ذلیل ہستی تصور کی جاتی تھی۔خود اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے لوگوں کا نقشہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:۔كُنتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ (ال عمران: 104) تم اس نبی کے آنے سے پہلے دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر پہنچ چکے تھے ساری دنیا پر تاریکی چھائی ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے ظلمت کو روشنی سے بدلنے کے لئے آنحضرت ﷺ کو مبعوث فرمایا لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (الفرقان: 2) تاکہ آپ دنیا والوں کو ان کی برائیوں پر آگاہ اور ہوشیار فرمائیں۔اور ان کی اصلاح فرمائیں۔اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اَنَّ اللهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد : 18) روحانی طور پر دنیا مر گئی تھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے پھر زندگی بخشی۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں آنحضرت صلعم کی قوت قدسیہ کے ذریعہ جو اخلاقی تبدیلی رونما ہوئی اس کا ذکر یوں فرماتا ہے اِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا – (ال عمران: 104) محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے اللہ تعالیٰ کے فضل نے تم کو آپس میں بھائیوں کی طرح کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام روحانی خزائن جلد 10 اپنی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 328 329۔میں فرماتے ہیں:۔”ہمارے سید و مولی نبی ﷺ ایسے وقت میں مبعوث ہوئے تھے جبکہ دنیا ہر ایک پہلو سے خراب اور