خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 278
278 کے لئے۔قوم کے لئے۔وطن کے لئے۔اپنی جان۔مال۔وقت اور اولاد قربان کریں گی۔لیکن جب وقت آتا ہے تو ہم نہ مال دینے پر آمادہ ہوتے ہیں اور نہ وقت دینے پر اور نہ اولاد قربان کرنے پر۔جان دینا تو بہت بڑی چیز ہے۔صحابہ کرام کو دولت بھی ملی۔عزت بھی ملی۔ان کی قربانیوں کے نتیجے میں قلیل عرصہ میں اسلام پھیل گیا۔کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ جو کچھ بھی ہمیں دیا گیا ہے۔یہ سب خدا کے لئے خرچ کرنے کے لئے ملا ہے۔ہماری جماعت کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے۔کسی بہن کو ان قربانیوں کا علم نہیں ہوگا۔جو صحابہ اور صحابیات نے کیں؟ جتنے ظلم ان پر کئے گئے ان کا عشر عشیر بھی ہم پر نہیں ہوا۔لیکن ان کے استقلال میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔اور پھر کتنی جلدی اسلام دنیا میں پھیل گیا۔میں یہ نہیں کہتی کہ ہماری جماعت قربانیاں کرنے والی نہیں۔ہے۔ہماری جماعت نے بہت بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔لیکن قوم وہ کامیاب ہوتی ہے جس کی قربانیوں کا معیار ایک ہو۔یہ نہ ہو کہ سو میں سے ایک تو بہت قربانی کرنے والی ہے اور باقی ننانوے وہ روح اپنے اندر نہیں رکھتیں۔جب تک ہماری جماعت کا ہر مرد اور عورت ایک ہی قسم کی قربانی نہیں کرتا۔ہم ترقی نہیں کر سکتے۔کامل طور پر ترقی اس وقت ہو سکتی ہے کہ آپ کی تنظیم مکمل ہو۔اور صرف ایک آواز پر سب چندے دینے اور وقت دینے پر تیار ہو جائیں اور جس قسم کی قربانی کے لئے کہا جائے آپ تیار رہیں۔اور یہی وہ وقت ہوگا جب اسلام کو ترقی ہوگی۔ذرا حضرت ہاجرہ کی قربانی کو سامنے لائیے۔انہوں نے خدا کی آواز پر اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کر دیا تھا۔صحابیات کی قربانیاں سامنے رکھئے۔ان کے آگے ہماری قربانیاں کیا حیثیت رکھتی ہیں۔کیا ہماری قربانیوں میں ان کا ذرا سا بھی سایہ ہے۔ہم اب تک اس مقصد کو نہیں پاسکی ہیں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا تھا۔ہم تو خود ہی دوسروں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ہمیں چاہئے کہ اسلامی تمدن پر قائم رہیں اور جب تک ہم یہ کوشش نہ کریں گی کہ دوسروں کی نقالی نہ کریں بلکہ دوسروں کو اپنے سے متاثر کریں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔بے شک ہر انسان میں لغزشیں بھی ہوتیں ہیں۔کوتا ہیاں بھی ہوتی ہیں۔لیکن اگر نیت نیک ہو تو اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔اسلام ایک بہت ہی لچکدار مذہب ہے۔ہمیں اس کی لچک سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔لیکن یہ بھی دیکھتے