خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 277
277 خطاب جلسہ سیرت النبی عه بجنه کراچی 20 نومبر 1962ء کو ایک سیرت النبی ﷺ کے جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے تشہد وتعوذ کے بعد فرمایا:۔کراچی میں مجھے تین سال کے بعد آنے کا اتفاق ہوا ہے۔اس سے پہلے تقریباً ہر سال ہی حضرت اقدس کے ساتھ آنا ہوتا تھا۔اور مجھے لجنہ کراچی کے جلسوں میں شرکت کا موقعہ ملتا رہتا تھا۔اب بھی میں لجنہ کراچی کی شدید خواہش پر یہاں آگئی ہوں۔کیونکہ اپنی عزیز بہنوں سے ملنے کو میرا دل چاہتا تھا گو حضرت اقدس کی علالت کے باعث آنا بہت مشکل تھا۔اس کے علاوہ اور مجبوریاں بھی تھیں۔مجھے کراچی کی بہنوں سے مل کر بے حد خوشی ہوئی ہے کیونکہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تمام بہنیں تو آ نہیں سکتیں۔اور جو جلسہ پر جاتی ہیں کام کی زیادتی کی وجہ سے ان سب سے بھی ملاقات نہیں ہوسکتی۔میں اپنی بہنوں اور بچیوں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کو صحت عطا فرمائے اور آئندہ ہم ان کی قیادت میں یہاں آئیں۔اور سب ان کی ہدایات اور تقاریر سے مستفید ہوں۔پھر آپ نے فرمایا ہم نے اپنا جلسہ نیک عہد سے شروع کیا ہے۔اور ہم اپنا ہر اجلاس اسی عہد سے شروع کرتے ہیں اور اس کو دہرانے کی غرض بھی یہی ہوتی ہے کہ دہرانے کے بعد یہ مد نظر رکھیں کہ آیا ہم اسے پورا بھی کرتے ہیں یا صرف طوطے کی طرح پڑھ لیا ہے۔آپ کو ہر دفعہ اس بات کا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ ہم نے اپنے عہد نامہ کے الفاظ پر عمل بھی کیا ہے یا نہیں۔آپ اپنے کام کرتے وقت سوچا کریں کیا یہ عہد نامہ صرف دو تین گھنٹوں کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے ؟ جب ہم اس اجلاس میں آتے ہیں اور یہ عہد نامہ دہراتے ہیں تو یہ ہم پر کیا ذمہ داری عائد کرتا ہے اور ہم اس ذمہ داری کو پورا کرتے ہیں یا نہیں۔میرا آپ کو مشورہ ہے کہ رات کو اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد ہفتہ بھر کا جائزہ لیا کریں اور سوچیں کہ آپ نے ان دنوں میں اپنے اوقات کو عہدنامے کے مطابق صرف کیا ہے یا نہیں۔یہ بھی سوچیں کہ ہم نے جو عہد کیا تھا اس کو پورا بھی کیا تھایا نہیں؟ صرف عہدد ہرا دینا اور اس کو پورا نہ کرنا مومن جماعت کا طریقہ نہیں ہوتا۔آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا "لجنہ کی ممبر ہوتے ہوئے ہم اس بات کا عہد کرتی ہیں کہ ہم سلسلہ کی مدد کرنے کے لئے حضور کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے۔اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچانے