خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 11 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 11

جاری ہوئے۔ان دونوں اخباروں کا ملک میں کافی اثر تھا۔ہفتہ وار اخباروں میں مشہور اخبار البـــرهــان۔البيان اورمراۃ الشرف تھے۔مصری پریس اب اپنے ملک کے معاملات میں بہت دلچسپی لینے لگ گئے تھے۔بعض اخبار ترکوں کی حمایت کرتے تھے۔بعض انگریزوں کی اور بعض فرانسیسیوں کی الزمان اور المعظم دونوں اخبار انگریزوں کی حمایت کیا کرتے تھے۔ان اخباروں کے خیالات کا سد باب کرنے کے لئے وطن پرست مصریوں نے مشہور اخبار الموید جاری کیا۔اس اخبار کے ایڈیٹر الشیخ علی یوسف تھے۔عربی صحافت کی تاریخ میں اس اخبار کا اجراء ایک نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔اس اخبار نے دوسرے نیشنلسٹ اخباروں کے لئے راستہ صاف کر دیا۔اس زمانہ کی صحافت تین دوروں میں سے گزرتی ہے۔پہلا دور 1892ء سے 1902 ء تک جبکہ اللواء جاری ہوا۔اس دور میں بہت سے ہفتہ واری اخبار جاری ہوئے۔جنہوں نے پالیسی کے لحاظ سے الموید یا المعظم کی نقل کی۔اس دور میں جاری ہونے والے اخباروں کی تعداد ڈیڑھ صد تک پہنچتی ہے۔اتنی زیادہ تعداد میں اخبار اور رسالے شائع ہونے کی وجہ مصری پریس کا آزاد ہونا تھا۔اس دور میں اخبار ادبی زیادہ اور سیاسی کم ہوتے تھے۔دوسرا دور 1902ء سے شروع ہو کر 1910ء میں ختم ہوتا ہے۔اس دور کی خصوصیت مصر میں تحریک قومی کا پھیلنا تھا۔جو حکومت برطانیہ کے خلاف اٹھی تھی۔اس دور کا روح رواں مصطفیٰ کامل تھا۔جو اللواء کا ایڈیٹر تھا۔اور جس نے مصریوں میں قومی شعور پیدا کیا۔اور مصریوں کو اس بات کے لئے ابھارا کہ وہ انگریزوں سے اپنی حکومت ختم کرنے کا ان کے وعدے کے مطابق مطالبہ کریں۔اللواء نے جس شدت سے انگریزوں سے مصر سے چلے جانے کا مطالبہ کیا۔اس کی نظیر پہلے کہیں نہیں ملتی۔بہت سے دولت مند مصریوں نے کئی کمپنیاں اس غرض سے قائم کیں کہ قومی اخباروں کو ان کے ذریعہ سے مددملتی رہے۔بہت سی مجالس اسی غرض سے قائم کی گئیں جن میں سے سب سے مشہور الحزب الوطنی ہے۔اس کا لیڈر مصطفی کامل تھا۔قومی اخباروں کی تعداد نمایاں طور پر بڑھ گئی اور جس کے نتیجہ میں میدان صحافت مکمل طور پر مصریوں کے ہاتھ میں آ گیا۔تیسرا دور لارڈ کر امر کی آزادی پریس کی پالیسی کے خلاف رد عمل سے شروع ہوتا ہے۔لارڈ کچھر کے عہد حکومت میں مصری پریس پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔جس کے نتیجہ میں بہت سے اخبارات بند کر دیئے گئے۔مصر کے علاوہ اور ملکوں سے بھی عربی اخبارات شائع ہوئے مثلاً مکہ سے ام القریٰ۔عمان سے الحکمت بغداد سے الفتح۔وغیرہ وغیرہ۔مصباح اپریل 1950