خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 254 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 254

254 ۲۔هست درگاه بزرگش ، کشتی عالم پناه کس نه گردد روز محشر جز پناهش رستگار (ترجمہ) اس کی عالی بارگاہ سارے جہاں کو پناہ دینے والی کشتی ہے قیامت کے دن کوئی بھی اس کی پناہ کے سوانجات نہیں پائے گا۔جان خود دادن بے خلق خدا در فطرتش جاں نثار خستہ جاناں بیدلاں را غمگسار (ترجمہ) مخلوق خدا کی خاطر اپنی جان دینا اس کی فطرت میں داخل ہے۔وہ شکستہ دلوں پر جاں شمار کرنے والا اور بے دلوں کا غمگسار ہے۔کشتہ قوم و فدائے خلق و قربان جہاں نے بجسم خویش میلش نے بنفس خویش کار (ترجمہ) وہ کشتہ قوم مخلوق الہی پر خدا اور اہل جہاں پر قربان تھا۔اسے اپنی جان سے کوئی کام تھا اور نہ اسے اپنے جسم کی طرف کوئی توجہ تھی۔نعرہ ہا پر درد مے زد از پنے خلق خدا شد تضرع کا را و پیش خدا لیل و نہار (ترجمہ) وہ مخلوق خدا کی خاطر پر درد آہیں بھرتا تھا اور خدا کے سامنے رات دن تضرع کرنا اس کا۔کام تھا۔منت او بر ہمہ سرخ و سیا ہے ثابت است آنکہ بہر نوع انسان کرد، جان خود شار (ترجمہ) ہر سرخ و سیاہ پر اس کا احسان ثابت ہے۔وہ جس نے بنی نوع انسان کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔در مکنون صفحه 125 126 اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مامور من اللہ جب آتا ہے تو اس کی فطرت میں سچی ہمدردی رکھی جاتی ہے اور یہ ہمدردی عوام سے بھی ہوتی ہے اور جماعت سے بھی اس ہمدردی میں ہمارے نبی کریم ﷺ سب سے بڑھے ہوئے تھے۔اس