خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 253 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 253

253 رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِين :۔نوٹ :۔یہ تقریر حضرت چھوٹی آپا صاحبہ نے لجنہ اماءاللہ کراچی کے جلسہ سیرۃ النبی ﷺ میں فرمائی تھی۔یہ جلسہ 19 نومبر 1962ء کو احمد یہ ہال کراچی میں منعقد ہوا۔جس میں احمدی بہنوں کے علاوہ کثیر تعداد میں غیر احمدی مستورات نے بھی شرکت کی۔تشہد وتعوذ کے بعد آپ نے فرمایا: اِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ و سَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب : 57) ہزاروں درود اور سلام اس وجود پر جو ساری دنیا کے لئے رحمت کا بادل بن کر آیا۔جس نے دنیا سے تاریکی کو مٹا دیا اور جہالت کو دور کر دیا۔وحشیوں کو با اخلاق انسان بنا دیا۔اور با اخلاق انسان کو باخدا انسان بنا دیا۔صد ہا سال کے بہروں کو کان بخشے اور اندھوں کو بینائی بخشی۔ہاں وہ آفتاب صداقت جس کے قدموں پر ہزاروں شرک دہریت اور فسق و فجور کے ہاتھوں مرے ہوئے جی اٹھے۔آپﷺ کا بابرکت وجود دنیا کے ہر شخص کے لئے مجسم رحمت تھا۔کیا امیر کیا غریب کیا مرد کیا عورت کیا بچہ کیا بڑا۔کیا آقا کیا غلام اور کیا انسان اور جانور غرض تمام موجودات کے لئے آپ کی اور رحمت و شفقت تھے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ ذیل اشعار میں آپ کی بنی نوع انسان سے اسی شفقت کو بیان فرماتے ہیں: ا۔آں مبارک پے، کہ آمد ذات با آیات او رحمتے ، زاں ذات عالم پرور و پروردگار (ترجمہ) وہ مبارک قدم جس کی ذات والا صفات رحمت بن کر رب العالمین کی طرف سے نازل ہوئی۔