خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 255
255 لئے آپ ﷺ کی دنیا کی طرف مامور ہو کر آئے تھے اور آپ سے پہلے جس قدر نبی آئے وہ مختص القوم اور مختص الملک کے طور پر تھے۔مگر آنحضرت ﷺ کل دنیا اور ہمیشہ کے لئے نبی تھے۔اس لئے آپ کے کی ہمدردی بھی کامل ہمدردی تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَنْ لَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء : 4) الحکم 31 مارچ 1903ء بنی نوع انسان سے آپ کی شفقت اور ہمدردی کی مثال دنیا کی کوئی تاریخ نہیں پیش کر سکتی۔خود اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے متعلق گواہی دی کہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمُ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رحِيمٌ (التوبه : 129) اس آیت میں عزیز اور حریص کے الفاظ سے آپ کے مظہر۔صفت رحمان ہونے کی طرف اشارہ ہے۔کیونکہ آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں۔بنی نوع انسان اور تمام حیوانات تک کے لئے آپ ﷺ کا وجود سراپا رحمت ہے بنی نوع انسان کی کسی تکلیف کا دیکھا محمد رسول اللہ ﷺ پر سخت گراں گزرتا تھا۔بیٹے شان کشید رنج و محن از بار اوشان گرفت بر گردن یعنی آپ نے ان لوگوں کی خاطر مصائب جھیلے اور ان کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھالیا۔حق تعالیٰ چوداد رسالت او دید آئین شوو او مہرو بردل مشركان سینہ زد لا اله الا الله در مکنون صفحه 114 یعنی خدا تعالیٰ نے جب آپ ﷺ کی رسالت میں محبت و شفقت کا آئین دیکھا تو مشرکوں کے سیاہ دلوں پر اس نے لَا إِلهَ إِلَّا الله کا نقش ثبت کر دیا۔تمیس (23) سال کی تکالیف برداشت کرنے کے بعد آپ ﷺ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوتے ہیں۔بڑے بڑے رؤسائے قریش جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی اور ہر طرح آپ ﷺ کوذلیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔آپ ﷺ کا بائیکاٹ