خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 249 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 249

249 آپ ﷺ کے اخلاق سیکھو۔ایک کامل نمونہ تمہارے سامنے ہے۔قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے حکم پر عمل کیا اور اپنے آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کا نمونہ بنانے کی کوشش کی جو ملک فتح کیا وہاں دنیا کو درس اخلاق دیا۔ایک نئی تہذیب اور تمدن کی بنا ڈالی۔آج یورپین اقوام اخلاق اخلاق کا شور مچاتی ہیں اور ظاہر یہ کرتی ہیں کہ گویا اخلاق کی تعلیم دنیا ان سے حاصل کر رہی ہے انہوں نے یہ اخلاق کہاں سے سیکھے رسول کریم ﷺ کی بعثت کے وقت دو قو میں کچھ تعلیم یافتہ تھیں ایک روم اور دوسرے کسریٰ کی حکومت۔لیکن وہ بھی عیش وعشرت میں پڑ کر سب اخلاق و تہذیب بھول چکی تھیں۔مسلمانوں نے فتوحات پر فتوحات کیں۔یونان، روم، سپین، افریقہ ان سب جگہوں میں حکومتیں کیں۔اپنے اخلاق سے دنیا کو زیرنگیں کیا۔جس ملک کو فتح کر کے وہاں سے جاتے تھے وہاں کے لوگ ان کے لئے آنسو بہاتے تھے۔موجودہ مغربی اقوام نے مسلمانوں سے درس اخلاق لیا۔لیکن افسوس کہ چودہ سوسال کے بعد مسلمان وہ اخلاق بھول گئے جن کا سبق محمد رسول اللہ ﷺ نے دیا اور دوسری اقوم نے ان اخلاق کو اپنا لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کی شان میں فرماتے ہیں:۔آں معلم توئی کہ نشاں ور دوراں چوں تو نے دہند شرح خلقش کجا تو انم حسن آں عاجز از کرد بیانم کرد ( در مکنون ص: 114) ترجمہ: آپ نے زمانہ میں ایسے عظیم الشان اُستاد ہیں کہ آپ ﷺ کی شان کے کسی اور استاد کا نشان نہیں ملتا۔میں آپ ﷺ کے اخلاق کی شرح کیسے کر سکتا ہوں میں تو آپ ﷺ کے حسن کو بیان کرنے سے عاجز ہوں۔چودہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں کی دستگیری کی اور مخلوق پر رحم فرمایا اور اپنا مامور ہماری اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں لِكُلّ دَاءِ دَوَاء جس طرح ظاہری امراض کا علاج ہو سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ بھی قرآن مجید میں فرماتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: 12)