خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 247 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 247

247 میں خدا تعالیٰ پر ایسا ایمان پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لائے وہ گناہ کی زہر سے بیچ جائے اور اس کی فطرت اور سرشت میں ایک تبدیلی پیدا ہو جائے اس پر موت وارد ہو کر ایک نئی زندگی اس کو ملے۔گناہ سے لذت پانے کی بجائے اس کے دل میں نفرت پیدا ہو۔“ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم نے اس جماعت میں داخل ہو کر واقعی اپنے گنا ہوں سے سچی توبہ کر کے پاک تبدیلی پیدا کی ہے یا نہیں۔اور نہیں کی تو ہم کس طرح وہ تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لانے کا نتیجہ ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جو لوگ آپ پر ایمان لائے انہوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا۔آپ کی باتیں سنیں۔تازہ بتازہ نشانات دیکھے۔اور ان کا ایمان ترقی کرتا گیا۔ان کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا ہوتی چلی گئیں۔وہ وقت گذر گیا۔نبی تو صرف تختم ریزی کرنے آتا ہے۔آپ اپنے کام کر کے خالق حقیقی کے پاس چلے گئے۔دُنیا نے سمجھا اب یہ جماعت ختم ہو جائے گی۔ابتلاء آئے۔ٹھوکریں لگیں لیکن قدرت ثانیہ کے ذریعہ سے دنیا نے مشاہدہ کر لیا کہ خدا کی مدد اس جماعت کے ساتھ ہے۔بکھرتا ہوا شیرازہ پھر متحد ہو گیا اور جماعت اپنے خلیفہ کی قیادت میں ترقی کرتی چلی گئی۔حضرت خلیفہ اول کی وفات پر جماعت کو پھر دھکا لگا اور قریب تھا کہ جماعت کا شیرازہ بکھر جائے۔لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ خدا کی نصرت جسے حاصل ہو وہ تباہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے آپ خلیفہ دیا۔جس نے اپنے قول اور فعل سے جماعت میں ایک ایسی روح پھونکی کہ جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا آپ میں سے اکثر نے حضرت خلیفہ اول کا زمانہ بھی نہیں پایا بلکہ آپ میں سے بہت نے حضرت خلیفہ ثانی کا ابتدائی زمانہ بھی نہیں دیکھا جب جماعت ترقی کرتی ہے تو ہر قسم کے لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ بہت سی روحانی کمزوریاں بھی لاتے ہیں جو ان کے ہم جلیسوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اسی کی طرف قرآن مجید کی یہ آیت اشارہ کرتی ہے۔إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا۔فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا۔(سوره النصر : 4،3،2) اور اب جب کہ آپ کے پیارے امام اور خلیفہ بیمار بھی ہیں اور آپ ان کے روح پرور خطبات سننے سے بھی محروم ہیں آپ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔