خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 235 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 235

235 اس حصہ کو صرف ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے مضمون کے دوسرے حصہ کی طرف آتی ہوں۔آپ ﷺ کو خدا تعالیٰ سے کچھ ایسی محبت اور کچھ ایسا عشق تھا کہ کوئی معاملہ ہو اس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ضرور کرتے۔اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے۔کھاتے پیتے۔غرض ہر موقعہ پر اللہ کا نام ضرور لیتے۔آپ ﷺ کے دن اور رات کا کوئی لمحہ ایسا نہیں تھا۔جس میں آپ ﷺ کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر اور آپ ﷺ کا دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل رہتا ہو۔یہاں تک کہ وہ وقت جس میں مرد اور عورت دنیا وما فیہا سے غافل ہو جاتے ہیں۔ان گھڑیوں میں بھی آپ ﷺ کے لبوں سے اللہ کا ہی نام نکلتا ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ہر شب جب سونے کے لئے لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ قُلْ اَعُوذُ بَرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتے۔پھر جہاں تک ہو سکتا اپنے بدن پر ہاتھ ملتے اور تین دفعہ اسی طرح ہی کرتے۔ان تینوں سورتوں کو باترجمہ پڑھیں اور غور کریں کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے غناپر کتنا ایمان تھا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ صحیح بخاری کتاب الطب خشیت اللہ رسول الله علے خدا تعالیٰ کی صفت غنا سے انتہائی خوف رکھتے تھے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت اس حد تک ہوتی کہ دوست اور دشمن حیران رہ گئے۔اللہ تعالیٰ کا آپ ﷺ سے یہ سلوک کہ اپنی ذات سے محبت کرنے والے کے لئے آپ ﷺ کی اطاعت کی شرط لگاتا ہے۔چنانچہ ارشاد ہوا ہے۔إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران: 32) اسی طرح فرماتا ہے اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ (الفتح: 11) پھر آپ ﷺ کے بلند مقام کی عظمت کا اعتراف قرآن مجید میں دَنَى فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْأَدْنَى (النجم: 10۔9) کے ذریعہ سے بھی ہوتا ہے۔لیکن اس کے باوجود خشیت الہی کا یہ حال ہے کہ آپ فرماتے ہیں وَاللَّهِ مَا أَدْرِكْ وَأَنَا رَسُولُ اللهِ مَا يُفْعَلُ ہی خدا کی قسم میں نہیں جانتا با وجود اس کے کہ میں خدا کا رسول ہوں میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔حضرت ابن عباس سے آپ ﷺ کی ایک دعا جو آپ ﷺ خلوت کے وقت مانگا کرتے تھے مروی ہے۔آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ صبح کی سنتوں کے بعد آپ یہ دعا مانگا کرتے تھے اللهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا۔وَفِي