خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 236 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 236

236 سَمْعِي نُورًا وَّعَنْ يَمِينِى نُورًا وَّ عَنْ يَسَارِكُ نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَّآمَامِي نُورًا وخَلْفِى نُورًا وَّاجْعَلْ لِى نُورًا - (صحیح بخاری کتاب الدعوات) خلق خدا کی خدمت اب میں مضمون کے اس حصہ کی طرف آتی ہوں کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر فعل کس طرح خدا تعالیٰ کی خاطر اور اس کی مخلوق کی خدمت میں گزرا۔بچپن سے ہی آپ ﷺ کی فطرت لڑائی جھگڑوں سے علیحدہ رہنے والی اور مظلوموں کی مدد کرنے والی تھی۔چنانچہ ایام جوانی میں ہی آپ ﷺ مکہ کے کچھ سعید الفطرت نو جوانوں کے ساتھ ایک انجمن میں شامل ہوئے۔جس کی غرض یہ تھی کہ وہ مظلوموں کی حمایت کریں گے اس کا نام ہی مجلس حلف الفضول رکھا گیا تھا۔اس پر عمل کرنے میں بھی آپ ﷺ ہی پیش پیش رہے۔جب آپ ﷺ نے دعویٰ نبوت کیا تو سب سے زیادہ مکہ کے سردار ابو جہل نے آپ ﷺ کی مخالفت میں حصہ لیا۔ایک شخص جس نے ابو جہل سے کچھ قرض وصول کرنا تھا مکہ آیا اور ابو جہل سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا۔اس نے قرض ادا کرنے سے انکار کر دیا۔لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ محمد رسول اللہ کے پاس جاؤ وہ تمہاری مدد کریں گے۔مشورہ دینے سے ان کی غرض شرارت تھی کہ جب اس کی مدد کے خیال سے آپ ﷺ ابو جہل کے پاس جائیں گے تو ابوجہل آپ ﷺ کو ذلیل کر کے نکال دے گا۔وہ شخص آپ ﷺ کے پاس گیا آپ بلا پس و پیش اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے۔اس کو ساتھ لے کر چل دیئے۔ابو جہل کے گھر پہنچے۔دروازہ پر دستک دی۔ابو جہل گھر سے نکلا آپ ﷺ نے اس کو کہا اس شخص کا تم نے قرض دینا ہے وہ ادا کر دو۔ابو جہل نے بلا چوں چرا اس کا قرض ادا کر دیا۔جب شہر کے رؤسا کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اسے ملامت کی کہ ہمارے سامنے تم شیخیاں بگھارا کرتے تھے کہ میں یوں کروں گا اور یوں کروں گا اور محمد ( رسول اللہ ﷺ کے کہتے ہی تم نے اس کی بات مان لی۔تو اس نے جواب دیا کہ اگر میری جگہ تم ہوتے تو تم بھی ایسا ہی کرتے میں نے دیکھا کہ محمد ﷺ کے دائیں اور بائیں دومست اونٹ کھڑے ہیں جو میری گردن مروڑ کر ہلاک کر دیں گے۔صل الله آپ ﷺ ایسے وقت مبعوث ہوئے جب دنیا میں گمراہی اور ضلالت کا دور دورہ تھا خدا کا خوف دلوں سے اٹھ چکا تھا۔خالق اور مخلوق کے درمیان پردے حائل ہو چکے تھے۔رسول کریم ﷺ نے دنیا کو خدا کی ہستی کا ثبوت دیا اور دنیا کوخدا کا حسن دکھانے کے لئے بلایا۔مگر شروع میں لوگوں نے پروا نہیں کی اور