خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 224 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 224

224 اختتامی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ مرکز یہ 1961ء انعامات تقسیم کرنے کے بعد حضرت سیدہ صدر صاحبہ لجنہ مرکزیہ نے نمائندگان اور خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: تمام لجنات کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارا قدم ترقی کی طرف جارہا ہے۔اجتماع کی غرض صرف یہی نہیں کہ بہنیں باہر سے آئیں۔مقابلوں میں حصہ لے کر انعام حاصل کریں اور خوش ہوں بلکہ اجتماع کا مقصد تربیت حاصل کرنا۔اجتماعی طور پر ذکر الہی اور دعائیں کرنا اور آپس میں تعلقات رکھنے کی عادت پیدا کرنا ہے۔تمام ممبرات کو لجنہ اماءاللہ کی عہدہ داروں کی اطاعت کرنی چاہئے اسلام کی تمام تعلیم ہی اس محور کے گرد گھومتی ہے کہ اَطِيْعُو اللَّهَ وَأَطِيعُو الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ (النساء: 60) اگر احمدی خواتین ترقی کرنا چاہتی ہیں تو انہیں اطاعت کا مادہ اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے اور نظام سے وابستگی رکھیں۔دعاؤں پر زور دیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تحریک جدید کے جو انہیں مطالبات رکھے تھے ان میں سے ایک دعا بھی تھی۔جلسوں میں اگر آپ کو تقریروں کی آواز نہیں آتی تو آپ باتوں کی بجائے دعاؤں میں لگی رہیں جو باتیں کرنے اور شور مچانے سے بدرجہا بہتر ہوگا۔“ آپ نے توجہ دلائی کہ اب جلسہ سالانہ قریب آرہا ہے اس جلسہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت اہمیت دیا کرتے تھے مگر جو باوجود اس کے کہ اتنی دور سے خرچ کر کے سفر کی صعوبتیں سہہ کر یہاں آتی ہیں اور تکلیف میں تین دن گزارتی ہیں۔پھر بھی بجائے جلسہ کا پروگرام سننے کے باتوں میں ادھر ادھر گھومنے پھرنے میں وقت اک کر دیتی ہیں نمائندگان کو چاہیے کہ وہ ان شہروں میں جا کر لہ کر یں۔جس میں مستورات کوجلسہ سالانہ کی اہمیت بتائیں اور ان کو خاموشی سے جلسہ سنے کی نصیحت کریں۔“ دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی وہ یہ تھی کہ بہنیں سٹیج کا ٹکٹ سوائے اشد ضرورت کے حاصل کرنے کوشش نہ کریں۔کیونکہ سٹیج ایسی جگہ ہے جہاں کارکنات نے جلسہ کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔اگر زیادہ سے زیادہ لوگ وہاں آنے کی کوشش کریں گے تو ظاہر ہے کہ اصل کام میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔اگر نظام کی