خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 222
222 افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1961ء 20 اکتو بر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ نے نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر اظہار تشکر کیا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں پھر ایک دفعہ اکٹھے ہونے کی توفیق دی ہے۔نمائندگان اجتماع کے ان تین دنوں میں سے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں بلکہ اس وقت کو یہاں کے تربیتی پروگرام سننے دعائیں کرنے اور ذکر الہی کرنے میں گزاریں۔اور جو کچھ یہاں سے سن کر سیکھ کر جائیں وہ اپنی اپنی لجنات کو جا کر سکھائیں۔آنحضرت ﷺ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی یہی طریق تھا کہ جماعتیں اپنے نمائندے مرکز میں بھجواتے جو وہاں سے علم دین اور تربیت لے کر واپس اپنے شہروں میں جا کر معلم کا کام کرتے۔احمدی مستورات کو موجودہ زمانہ کی مستورات پر یہ فوقیت حاصل ہے کہ جہاں دوسری مستورات صرف دنیاوی علوم جانتی ہیں صرف ایک خامی ہے اگر وہ دور ہو جائے تو احمدیت اور اسلام کی ترقی بہت جلد ہوسکتی ہے اور وہ خامی یہ ہے کہ آزادی سے ایک غلط تاثر یہ پھیل گیا ہے کہ عورتیں اپنے آپ کو ہر قسم کی دینی اور معاشرتی قیود سے آزاد سمجھتے ہوئے غیر ممالک کی تقلید کرنے لگ گئی ہیں۔اگر یہ تقلید اچھی باتوں میں کی جائے تو بہت اچھا ہے۔مگر بُری باتوں مثلاً فیشن پرستی میں کسی کی اتباع کرنا بہت بُرا ہے۔لڑکیوں میں جو فیشن پرستی کی رو چلی ہے اس کی ذمہ داری صرف انہی پر نہیں بلکہ ان کی ماؤں پر بھی ہے اگر مائیں ان کی نگرانی اور خیال رکھیں تو یقیناً وہ ان بُری عادتوں سے محفوظ ہوسکتی ہیں۔یہ وقت ہماری جماعت کے لئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ہماری عورتوں کو چاہئے کہ وہ اگلی نسل کو آزادی اور فیشن پرستی کی لعنت سے بچانے کی کوشش کریں۔اس ضمن میں بچیوں کو اسلام کے احکام اور قرآن کریم کی تعلیم سکھائی جائے اور ان کو کہا جائے کہ کسی بھی صورت میں ان احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی۔ان کو آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ سے روشناس کروایا جائے۔کیونکہ جب ان کے سامنے ایک کامل نمونہ ہو گا تو وہ اس کی تقلید کریں گی۔لجنات بچوں کے لئے خالص دینی تعلیم کا انتظام کرنے کی طرف توجہ دیں۔تا کہ وہ عیسائیت کے آہستہ آہستہ سرایت کر جانے والے اثر سے محفوظ رہیں۔اگر احمدی بچیاں اور عورتیں فیشن پرستی اور آزادی کی