خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 207
207 اختتامی خطاب سالانہ اجتماع 1959ء تقسیم انعامات کے بعد صدر لجنہ مرکزیہ کے نمائندگان کے سامنے ان کے سالانہ کام کا جائزہ لیتے ہوئے فرمایا۔کہ بجنات کی گزشتہ سال کی کارکردگی دیکھنے اور ان کی رپورٹیں پڑھنے پر بھی بہترین کام کرنے والی لجنہ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔اجتماع سے چند روز قبل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا پیغام جو آپ نے خدام الاحمدیہ راولپنڈی کو دیا تھا شائع ہوا۔اس میں آپ نے کسی مجلس کی گزشتہ سال کے کام کے مقابلہ پر ترقی کرنے کے چار معیار بیان فرمائے ہیں۔آپ کے بتائے ہوئے معیار ہی میں آپ کے سامنے رکھتی ہوں۔اور حقیقت میں ان ہی چاروں معیاروں کے مطابق آپ آئندہ سال فیصلہ کر سکتی ہیں کہ آپ کی لجنہ اماءاللہ نے ترقی کی ہے یا خدا نخواستہ تنزل۔وہ چار معیار یہ ہیں۔پہلا معيار: جماعت کی تعداد ہے۔اگر آپ کی لجنہ کی ممبرات کی تعداد بڑھ رہی ہے تو یقینا آپ کی جماعت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے کوئی وجہ نہیں کہ لجنہ کی مبرات سرگرمی سے کام کریں تو ہزاروں پیاسی روحیں حقیقی اسلام کو قبول نہ کریں اور جماعت کی تعداد نہ بڑھے۔ابھی تک تو بہت سی ایسی احمدی مستورات بھی ہیں جو لجنہ کی تنظیم میں شامل نہیں۔آپکی کوشش ہونی چاہئے کہ کوئی ایک عورت بھی آپ کی تنظیم سے باہر نہ رہے۔دوسرا معيار: مالی قربانی ہے۔اگر ہم ایک سال کوشش کر کے مالی قربانی زیادہ کرتے ہیں اور دوسرے سال وہ جوش و خروش جو پہلے سال تھ باقی نہیں رہتا تو یہ حقیقی قربانی کہلانے کی مستحق نہیں۔قربانی وہی ہے جس میں جمود نہ ہو بلکہ ہر سال پہلے سے زیادہ قربانی ہو۔اپنی کارگزاریوں کی اطلاع دیتے وقت آپ کو خود موازنہ کرنا چاہئے کیا سال زیر رپورٹ میں آپ کی لجنہ مالی قربانیوں کے لحاظ سے گزشتہ سال سے بہتر رہی ہے یا نہیں۔تيسرا معيار: جماعت کی تنظیم ہے۔اگر مذکورہ بالا دونوں معیاروں کے مطابق لجنہ ترقی بھی کر رہی ہے تب بھی اگر اس کی تنظیم مکمل نہیں تو اس جماعت یا لجنہ یا مجلس کا کام مکمل نہیں کہا جاسکتا۔لجنہ اماءاللہ کی تمام مہروں کا تعلق اسی طرح ہونا چاہئے جس طرح ایک عمارت کی اینٹیں ہوتی ہیں۔اگر ایک اینٹ بھی ٹیڑھی لگ جائے