خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 208
208 تو ساری عمارت کے لئے خطرہ ہو جاتا ہے۔جیسا کہ اس شعر سے واضح ہے نت اول چوں نہر معمار ثریا رود دیوار لجنات کی ممبر ات کو اپنی عہدیداروں کا مکمل فرمانبردار ہونا چاہئے قرآن کریم کی ساری تعلیم اسی محور پر گھومتی ہے کہ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمرِ مِنكُمْ۔( النساء: 60) بڑی بڑی لجنات میں بھی معمولی معمولی باتوں پر جھگڑوں کی اطلاع آتی رہتی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔بلکہ سب کو مل کر اپنے آپ کو منظم کرنا چاہئے تا کہ ہم سب کی کوششوں سے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت کو ساری دنیا میں قائم کر دے۔چوتها معیار جس سے کسی مجلس کی ترقی کو پر کھا جا سکتا ہے جماعت کی تربیت ہے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گو ہماری مستورات مالی قربانیوں میں مردوں سے بھی زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔لیکن تربیتی لحاظ سے ابھی تک وہ دوسری قوموں کی عورتوں سے بہت پیچھے ہیں۔پس لجنات کی عہدہ داروں کو توجہ دلاتی ہوں کہ سب سے زیادہ محنت تربیت کرنے میں کریں اور اس لحاظ سے سب سے زیادہ ذمہ داری ربوہ کی مستورات پر عائد ہوتی ہے۔باہر سے آنے والی مستورات کی تنقیدی نظر ہمیشہ مرکز کی مستورات پر پڑتی ہے۔اس لئے ربوہ کے تمام اداروں کا فرض ہے کہ وہ ربوہ کی مستورات اور بچیوں کی اخلاقی لحاظ سے ایسی تربیت کریں کہ وہ نہ صرف پاکستان کی دوسری عورتوں کے لئے بلکہ ساری دنیا کی عورتوں کے لئے نمونہ بنیں۔انگلستان، یورپ اور امریکہ سے آنے والی خواتین اگر ربوہ میں آئیں تو ان کو دیکھ کر متاثر ہوں اور یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ حقیقت میں ان کا عمل ان کے قول کے مطابق ہے۔آخر میں آپ نے اعلان کیا کہ آئندہ سال کے لئے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے مختلف کاموں کے لئے نمبر مقرر کر دیئے ہیں ان کے مطابق جو لجنہ سب سے زیادہ نمبر لے گی وہ بہترین قرار دی جائے گی۔نمبر مندرجہ ذیل ہیں۔شعبه تعلیم و تربیت 20 نمبر شعبه مال 10 نمبر شعبه رشد و اصلاح 10 نمبر شعبہ خدمت خلق 10 نمبر شعبہ ناصرات الاحمدیہ 10 نمبر شعبہ نمائش 10 نمبر متفرق تحریکات 20 نمبر شعبہ مصباح 10 نمبر عہد نامہ دہرانے اور دعا کے بعد اجتماع ختم ہوا۔تاریخ تجنہ جلد سوم صفحہ 24 25