خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 203 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 203

203 افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماء الله 1959ء حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے افتتاحی اجلاس میں نمائندگان کو اَهْلًا وَّ سَهْلًا وَمَرْحَبًا کہتے ہوئے فرمایا: اجتماع کے تین دنوں میں انہیں صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانا چاہئے۔نیز نمائندگان کا مرکز میں آنے کا دستور کوئی نیا دستور نہیں۔حضرت رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں دور دراز سے سفر کر کے لوگ اسلام سیکھنے کے لئے حضرت رسول کریم ﷺ کے پاس آتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ دین سیکھ کر جائیں۔اور جولوگ مرکز اسلام میں مجبوریوں کے باعث نہیں پہنچ سکتے تھے ان کو دین اسلام سکھائیں۔پس آپ پر جو نمائندہ بن کر آئیں ہیں بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔آپ اجتماع کے پروگرام سے فائدہ اٹھائیں۔جتنا سیکھ سکیں سیکھیں۔اپنے کاموں کا جائزہ لیں۔دوسری لجنات کے کاموں سے ان کا موازنہ کریں تا آپ کو اپنے اور ان کے کاموں میں فرق معلوم ہو۔لجنہ کو ترقی دینے کے وسائل پر ایک دوسرے سے تبادلہ خیالات کریں اور اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے اس طرح گزاریں کہ جب آپ واپس جائیں تو آپ کے دلوں میں کام کرنے کے متعلق زیادہ بشاشت ہو۔نئی امنگ اور نیا عزم ہو اور واپس جا کر آپ پھرست نہ ہو جائیں۔بلکہ اپنے اندر جو قربانی کی روح۔امنگ۔عزم اور کام کرنے کا جذبہ لے کر جائیں۔اسی روح امنگ اور عزم اور جذبہ کو اپنی لجنات کی دوسری ممبرات میں بھی پیدا کریں۔تا کہ سب ممبرات متحد ہو کر لجنہ کی ترقی جماعت کی ترقی اور اسلام کی ترقی کے لئے کام کر سکیں۔ہماری کوششیں اور قربانیاں اللہ تعالیٰ کے فضل کی جاذب بہنیں۔اور ہم اسلام کی ترقی کا دن اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔کام بھی آپ صحیح رنگ میں اس وقت ہی کر سکتی ہیں جب اپنے دلوں میں خلوص پیدا کریں مذہب کی بنیادی چیز دلی محبت اور خلوص ہی ہے۔جب تک یہ نہ پیدا ہو ظاہری اعمال قشر کی حیثیت رکھتے ہیں۔سلسلہ سے محبت سلسلہ کے لئے انتہائی قربانی کا جذبہ خود اپنے دلوں میں پیدا کریں اور اپنی اولادوں کے دلوں میں بھی پیدا کریں تا کہ آنے والی نسلیں بھی احمدیت اور اسلام کے لئے ویسی ہی قربانی کر سکیں۔جو ہم سے پہلی خواتین کر چکی ہیں۔آپ نے بچیوں کی تربیت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے