خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 193
193 لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے پہلے سالانہ اجتماع میں خطاب مورخہ 19 اکتوبر 1956ء اجتماع کی کاروائی زیر صدارت حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ ساڑھے تین بجے دفتر لجنہ اماءاللہ کے ہال میں شروع ہوئی۔تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد عہد نامہ دُہرایا گیا۔اس کے بعد حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ جنرل سکریٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے نمائندگان کو خوش آمدید کہا اور اس امر پر خوشی کا اظہار فرمایا کہ قلیل وقت میں اطلاع ملنے کے باوجود انہوں نے اس میں شمولیت اختیار کی اس کے بعد آپ نے حاضرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ان دنوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں اور یہ ثابت کر دیں کہ آپ اپنی لجنات کی صحیح نمائندگی کر سکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمان عورتیں یہ بار اُٹھا سکتی ہیں۔اسلام نے انہیں ان تمام کاموں کا اہل قرار دیا ہے اور ان کو ایسی آزادی دی ہے۔جو دُنیا کی کسی قوم اور ملک نے نہیں دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان عورتوں کو ہر کام کرنے کا موقع دیا ہے۔اسلام سے پہلے عورت کو بُراسمجھا جاتا تھا۔اس پر مختلف قسم کی سختیاں کی جاتی تھیں۔لیکن اسلام نے نہ صرف یہ سختیاں دُور کیں، بلکہ عورت کو بہت بلند اور باعزت مقام عطا کیا۔اب عورت کا بھی فرض ہے کہ وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر دل و جان سے عمل پیرا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے۔آپ کے بعد آپ کے ارشاد کے مطابق خلافت قائم ہوئی اب مسلمانوں پر جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تعمیل ضروری تھی اسی طرح خلیفہ وقت کی ہدایات کی تعمیل بھی واجب تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ 66 پیشگوئی فرمائی تھی کہ ”آخری زمانہ میں خلافت علی منہاج نبوت قائم ہوگی۔(مسند احمد بن حنبل) سو حضور ﷺ کی اس پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی جماعت نے بالا تفاق خلافت علی منہاج نبوت قائم کرنے کیلئے حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کوخلیفہ منتخب کیا۔آپ نے خلافت کی برکات اور اس سے وابستگی پر زور دیتے ہوئے فرمایا۔جب تک قوم میں خلافت کا احترام اور اس سے محبت موجود رہتی ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ بھی اس قوم پر اپنی نعمت اور فضل کی بارش برساتا رہتا ہے اور جب کوئی قوم اس نعمت کی ناقدری کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس قوم سے منہ موڑ لیتا ہے۔مسلمانوں نے خلافت کی قدر نہ کی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک مسلمان