خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 194
194 اس کی پاداش میں مختلف آلام کا شکار ہیں۔حضرت مولانا نورالدین خلیفہ مسیح الاول کی وفات پر جماعت کی اکثریت نے حضرت سید نا اصلح موعود کواپنا دوسرا خلیفہ منتخب کرلیا۔اس موقع پر کئی معتبر اور سرکش لوگوں نے خلافت کا انکار کیا۔لیکن واقعات نے بعد میں یہ ثابت کر دیا کہ وہ غلطی خوردہ تھے۔حضرت الصلح الموعود کی قیادت میں جماعت نے بے نظیر ترقی کی۔خصوصاً حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جو عورتوں کے حقوق محفوظ کرنے کیلئے جد و جہد کی وہ آپ کے سامنے ہے۔آپ نے عورتوں کی با قاعدہ تنظیم کیلئے لجنہ اماءاللہ قائم کی۔سکول جاری کئے۔لڑکیوں کا کالج جاری کیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کئی سال متواتر جلسہ سالانہ کے موقع پر عورتوں میں بنفس نفیس تقریر فرماتے رہے جس کی وجہ سے احمدی عورتوں میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔حتی کہ حضور نے لجنہ اماءاللہ کو مجلس مشاورت میں بھی حق نمائندگی عطا فرمایا۔اس اجتماع میں لجنہ اماءاللہ بھی اپنی شوریٰ منعقد کرتی ہے۔چنانچہ اس سال اجتماع کے موقع پر لجنہ اماءاللہ کی گیارہویں شوری منعقد ہوگی۔ہم جتنا بھی اپنے خلیفہ کا شکر یہ ادا کریں اتنا ہی کم ہے۔لیکن افسوس ہے کہ ان دنوں بعض فتنہ پرداز عناصر اور منافقین جن کا رواں رواں حضور کے احسانات سے بندھا ہوا ہے۔نے خلافت کے خلاف شرارت کھڑی کر رکھی ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ مختلف قسم کے الزامات لگا کر خلافت کو مٹا دیا جائے۔حالانکہ یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں اور آج سے پیشتر یہ اس امر کے اقراری رہے ہیں کہ حضور نہ صرف خلیفہ وقت ہیں بلکہ پسر موعود اور اصلح الموعود بھی ہیں۔اس لئے دُنیا کی کوئی طاقت حضور کو حضور کے منصب سے معزول نہیں کر سکتی۔حضور کو خدا تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اور کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ کے خلیفہ کو معزول کرے۔ہم نے حضور کے ذریعہ زندہ نشانات دیکھے ہیں۔ان زندہ نشانوں کو دیکھنے کے بعد انکار یا مخالفت یقیناً عذاب الہی مول لیتا ہے۔پس آپ بہنیں ، آپ کے خاوند ، آپ کی اولادیں، آپ کے خاندان اس قسم کے فتنہ پرداز عناصر سے بیزار ہیں اور اُن سے لاتعلقی کا اظہار کریں۔چونکہ اپنی اولادوں کی صحیح راہنمائی کرنے میں عورتوں کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔اس لئے آپ کو اس سلسلہ میں مضبوط قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے رجسٹر کا روائی لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ہے تاریخ لجنہ جلد دوم صفحہ 433