خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 192 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 192

192 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 26 دسمبر 1954ء حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے دو قسم کے انسان پیدا کئے ہیں۔یعنی مرد اور عورت۔اور تمام شریعتیں جو خدا تعالیٰ نے آج تک نازل کی ہیں وہ ان دونوں کے لئے برابر ہیں۔اور دونوں میں سے خدا کے نزدیک باعزت وہ ہے جو نیک اور مناسب اعمال میں دوسرے سے سبقت لے جائے۔اسی طرح مرد اور عورت کی ذمہ داریاں برابر ہیں۔بلکہ عورت پر قومی تربیت کے لحاظ سے مرد سے زیادہ ذمہ داریاں ہیں کیونکہ اسی پر ملک اور قوم کی ترقی اور بہودی کا دارو مدار ہے۔اس کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے لجنہ اماءاللہ کا قیام فرمایا اور اس بات پر زور دیا کہ کوئی گاؤں قصبہ شہر ایسا نہ ہو جس میں لجنہ اماء اللہ کا ادارہ نہ ہو اور اس طرح جماعت کی ہر عورت اور لڑکی ایک نظام کی لڑی میں منسلک ہو کر سلسلہ احمدیہ کی بنیاد کو مضبوط کرنے والی ثابت ہو۔پھر آپ نے فرمایا کہ عورت کے ذمہ دین محمدی کے احکام سیکھنے اور سیکھانے کا فرض مرد سے زیادہ ہے۔جس سے وہ اپنی اولاد۔خاندان قوم اور ملک میں اپنا اعلیٰ نمونہ پیش کر کے اور اسلام کو صحیح رنگ میں پیش کر کے تبلیغ کر سکتی ہیں۔اس فرض کو سمجھانے کی غرض سے آپ نے حضرت عائشہ حضرت خدیجہ اور بعض دوسری صحابیات کی مثالیں پیش کیں۔اور صحیح معنی بتلا کر اس بات پر زور دیا کہ احکام شریعت خود سیکھیں اور ان پر عمل کریں تا کہ آپ اپنی اولاد میں اخلاق فاضلہ پیدا کر کے حقیقی طور پر خدمت اسلام کرسکیں۔مصباح جنوری 1955