خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 187 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 187

187 اجازت فرمائی۔عمارت کے چار کمرے تھے۔ایک کو دفتر بنا دیا تھا۔ایک کو کلاس روم اور دو ہوسٹل کے لئے رکھے گئے۔چونکہ پہلے سال صرف ایک ہی جماعت تھی۔اس لئے ایک سال تک اسی طرح کام چلتا رہا۔لیکن مئی میں نیا داخلہ شروع ہونے پر چونکہ دو جماعتیں ہو گئیں تو وہ عمارت ناکافی ثابت ہوئی اس لئے کالج کا دفتر لجنہ اماءاللہ کی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔کالج کی اپنی عمارت زیر تعمیر ہے۔مکمل ہونے پر انشاء اللہ کالج وہاں منتقل کر دیا جائے گا۔سٹاف : کالج چلانے کے لئے سب سے اہم اور ضروری مسئلہ اساتذہ کا تھا۔احمدی مستورات میں ایک تو ایم اے ہیں ہی بہت کم۔دوسرے جو چند ایک ہیں وہ بھی مختلف کالجوں میں کام کر رہی ہیں۔اس لئے پروفیسر مرد ہی رکھے گئے۔جن میں سے بعض کو پورے وقت کے لئے رکھا گیا اور بعض کو ایک یا دو گھنٹوں کے لئے۔فرخندہ بیگم المیہ سید محمد اللہ شاہ صاحب نے بھی اپنی خدمات پیش کیں۔گووہ بی اے بی ٹی ہیں اور ابھی تک ایم اے نہیں کیا لیکن انہوں نے بہت جانفشانی سے طالبات کو پڑھایا۔دوران سال سٹاف مندرجہ ذیل اساتذہ پر مشتمل رہا۔-1 دبیات اور فارسی اختیاری مکرم قاضی محمد نذیر صاحب فرخندہ بیگم صاحبہ اور عبدالسلام اختر صاحب ایم۔اے -2- انگریزی اقتصادیات فرخنده بیگم صاحبه عربی -3 -4 -5 -6 -7 خاکسار (حضرت سیدہ ام متین صاحبه ) اردو اور فارسی پروفیسر علی احمد صاحب ایم۔اے عربی اختیاری استانی سردار بیگم سپریٹنڈنٹ ہوسٹل مکرم علی محمد صاحب بی اے۔بی ٹی تاریخ مضامين : پورا سٹاف نہ ملنے کی وجہ سے سال گزشتہ میں فرسٹ ایئر کے لئے صرف مندرجہ ذیل مضامین ہی رکھے گئے۔(1) دبینیات (2) عربی (3) انگریزی (4) فارسی (5) تاریخ (6) اقتصادیات