خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 186
186 جامعہ نصرت ربوہ کی سالانہ رپورٹ جو حضرت سید وام تین صاحبہ ڈائریکٹر لیس جامعہ نصرت نے سالانہ تقسیم انعامات کے موقع پر پڑھ کر سنائی اللہ تعالیٰ کا بے انتہا فضل و احسان ہے۔جس نے ہمیں توفیق عطا فرمائی کہ جامعہ نصرت کی پہلے سال کی رپورٹ پیش کر سکیں۔ایک لمبے عرصہ سے جماعت کے مرکز میں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے زنانہ کالج کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔گو پنجاب کے قریباً ہر ضلع میں زنانہ کالج موجود ہیں اور قریباً ہر کالج میں ہی احمدی لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔جہاں وہ دنیاوی تعلیم تو بیشک حاصل کرتی تھیں لیکن دینی تعلیم اور صحیح تربیت اور روحانی ماحول سے نا آشنا تھیں۔اکثر مسلمان عورتیں خاص کر تعلیم یافتہ طبقہ کی لڑکیاں اور مستورات عیسائیوں کی نقل میں آزادی کی رو میں بہہ رہی ہیں۔پردہ چھوڑ دیا ہے۔اس لئے ان کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیاں بھی اس آزادی کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتی تھیں۔عام طور پر ہر ایک لڑکی جس عمر میں سکول کی تعلیم ختم کر کے کالج میں جاتی ہے۔وہ عمر سمجھ دار نہیں ہوتی اور زمانہ کا سیلاب اسے اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے ان حالات کی وجہ سے ضروری تھا کہ احمدی بچیاں موجودہ آزادی کی روش مغربی تہذیب ، فیشن کی لعنت اور بے پردگی کی وبا سے محفوظ رہیں۔ضروری تھا کہ احمدی بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ایک درسگاہ مرکز میں کھولی جائے۔جس میں یونیورسٹی کی مروجہ تعلیم کے علاوہ خالص مذہبی تعلیم بھی دی جا سکے۔مگر پارٹیشن کے بعد جماعت کے مالی حالات اتنے اچھے نہیں تھے کہ اس قدر جلد لڑکیوں کا کالج کھول دیا جا تا کوئی عمارت نہیں تھی۔سٹاف مہیا نہیں ہورہا تھا۔لیکن دوسری طرف ایک زنانہ کالج کھولے جانے کی ضرورت اس شدت کے ساتھ محسوس ہو رہی تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے زنانہ کالج کھولنے کا فیصلہ فرما دیا اور بنفس نفیس 14 جون 1951 ء کو خطاب بھی فرمایا۔کالج کی عمارت : چونکہ کالج کے لئے انجمن کے پاس کوئی عمارت نہ تھی اور نئی عمارت کا بیٹا آسان کام نہیں تھا۔اس لئے حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ازراہ عنایت اپنی ایک کوٹھی میں کالج جاری کرنے کی